Saturday, May 10, 2014

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے: خمار بارہ بنکوی



نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے 

سکوں ہی سکوں ہے، خوشی ہی خوشی ہے 
ترا غم سلامت، مجھے کیا کمی ہے 

وہ موجود ہیں اور ان کی کمی ہے 
محبت بھی تنہائیٔ دائمی ہے 


کھٹک گدگدی کا مزا دے رہی ہے 
جسے عشق کہتے ہیں شاید یہی ہے 

چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں 
نیا ہے زمانہ، نئی روشنی ہے 

جفاؤں پہ گھُٹ گھُٹ کے چُپ رہنے والو 
خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے 

مرے راہبر! مجھ کو گمراہ کر دے 
سنا ہے کہ منزل قریب آ گئی ہے 

خمارِ بلا نوش! تُو اور توبہ!
تجھے زاہدوں کی نظر لگ گئی ہے​ 

خمار بارہ بنکوی

Friday, February 28, 2014

جو غمِ حبیب سے دور تھے وہ خود اپنی آگ میں جل گئے


جو غمِ حبیب سے دور تھے وہ خود اپنی آگ میں جل گئے
جو غمِ حبیب کو پاگئے وہ غموں سے ہنس کے نکل گئے

جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے
وہ نظر نظر سے گلے ملی تو بجھے چراغ بھی جل گئے

یہ شکستہ دید کی کروٹیں بھی بڑی حسین و جمیل تھیں
میں نظر جھکا کے تڑپ گیا وہ نظر بچا کے نکل گئے

نہ خزاں میں ہے کوئی تیرگی نہ بہار میں ہے کوئی روشنی
یہ نظر نظر کے چراغ ہیں کہیں بجھ گئے کہیں جل گئے

جو سنبھل سنبھل کے بہک گئے وہ فریب خوردہ راہ تھے
وہ مقامِ عشق کو پاگئے جو بہک بہک کے سنبھل گئے

شاعر لکھنوی

Monday, February 24, 2014

انا الحق

مری خامشی ہے قسم سے انا الحق،
سزا وارِ دار و رسن ہے، انا الحق،
نہ بولوں تو منصور، بولوں تو مجرم،
بہر حال مجرم، برائے انا الحق..

محمد امین

Wednesday, August 15, 2012

حب الوطنی

ہممم ۔۔۔ کہاں سے بات شروع کروں۔ ۔۔۔ 
حب الوطنی۔۔۔
بے ترتیبی میرا طرۂ امتیاز ہے۔ سو یہ تحریر بے ترتیب اور بے ربط ہی سہی۔ ربط (رطب؟؟) تلاش کرنا قاری کے ذمے، دروغ برگردنِ راوی ہی سہی۔
ملک کیا ہے؟ وطن کیا ہے؟ قوم کیا ہے؟ ملت کیا ہے؟ گھر کیا ہے؟ خاندان کیا ہے؟ میں کیا ہوں؟
کئی برس بیت گئے مجھے یومِ آزادی منائے ہوئے۔ جس گھر کی خاطر اجداد نے گردنیں کٹوادیں اس گھر کی تشکیل کا جشن اور خوشیاں منائے ہوئے۔۔۔
مگر۔۔۔
ترانے اب بھی میری روح میں سرشاری گھول دیتے ہیں۔۔۔
مگر۔۔۔
اب بھی میری ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ جاتی ہے، جب میں وطن کی محبت سے بھرپور نغمات، منظومات اور تقاریر سنتا ہوں۔۔
کچھ ہے۔۔۔ جو خون میں شامل ہے۔۔ کچھ ہے جو خون میں گرمی کا باعث ہے۔۔
کچھ۔۔۔ ہے۔۔
جس کی وجہ سے جذبات کا پرسکون سمندر ٹھاٹھیں مارنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔۔۔
کیا یہی حب الوطنی ہے؟
کیا مجھے وطن سے محبت ہے؟
کیا وطن سے محبت کرنا جائز ہے؟
کیا قوم پرستی ایک صحیح الدماغ شخص کا کام ہے؟
جغرافیہ۔۔۔ کیا ہوتا ہے؟ جغرافیے کا قوم پرستی سے کیا تعلق ہے؟
پاکستان کا نقشہ میرے لیے مقدس کیوں ہے؟
کچھ لوگوں کی طرف سے میرے اوپر مسلط کردہ جھنڈا مقدس کیوں ہے؟
اگر یہ جھنڈا لال ہوتا تو کیا ہوتا؟؟ ہرا ہے تو کیا ہوگیا؟ اگر یہ لال ہوتا تو کیا مجھے اس جھنڈے سے پیار نہ ہوتا؟
قومی ترانہ حفیظ نے لکھ ڈالا تو کیا ہوا؟؟ مجھے تو حفیظ کے قومی ترانے سے زیادہ "ہندو" جگن ناتھ آزاد کا لکھا ہوا:
"اے سرزمینِ پاک،
ذرے ترے ہیں آج، ستاروں سے تابناک،
روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک،
اے سرزمینِ پاک"
زیادہ سلیس، رواں، فصیح لگتا ہے اور دل کو لبھاتا ہے۔۔۔
اگر جگن ناتھ کا لکھا ہوا ترانہ قومی ترانہ قرار پاتا تو کیا ہوتا؟؟؟ کیا قوم کو اس سے محبت نہ ہوتی۔۔۔ بجائے ایک عدد مفرس (بلکہ فارسی) ترانے کے۔۔۔
اگر پاکستان کے نقشے میں افغانستان بھی شامل ہوتا، ایرانی بلوچستان بھی شامل ہوتا تو کیا ہوتا؟؟؟
کیا ملک "الہامی" بھی ہوتے ہیں؟؟؟ اگر الہامی ہوتے ہیں تو بنگلہ دیش کہاں گیا؟؟ کشمیر کہاں گیا؟ جونا گڑھ کہاں گیا؟ بلوچستان کہاں جا رہا ہے؟
اگر۔۔۔ پاکستان اللہ کی عطا ہے تو پہلا وزیرِ خارجہ اس جماعت کا کیوں تھا کہ جو متفقہ طور پر خارج از اسلام ہے۔
اگر۔۔۔ اگر۔۔۔ اگر۔۔ اگر۔۔۔ اگر۔۔۔ اگر۔۔۔ اگر۔۔۔
مگر۔۔۔ مجھے اپنی مٹی سے محبت ہے۔۔۔ میری مٹی پر اگر آج بھی انگریز کی حکومت ہوتی۔۔۔ تو بھی مجھے اس سے محبت ہوتی۔۔۔
کہ۔۔
چلچلاتی دھوپ میں سر پہ اک چادر تو ہے
لاکھ دیواریں شکستہ ہوں پر اپنا گھر تو ہے
پاکستان کا نام پاکستان کے بجائے کچھ اور ہوتا تو؟؟
خیبر پختونخواہ کا نام جب این ڈبلیو ایف پی تھا۔۔تو کیا اس کے لوگوں کو اس سے محبت نہیں تھی؟؟ اب خیبر پی کے ہوگیا ہے تو کیا زیادہ محبت ہوگئی ہے؟؟ افغانیہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ صرف خیبر ہوتا تو؟؟ مگر خیبر تو غالباً عرب میں ایک قلعے کا نام تھا نا؟؟ تو مستعار لیے گئے نام سے جغرافیے کے طور پر محبت؟؟؟
سب کچھ منتشر ہے۔۔۔ سب کچھ بکھرا ہے۔۔۔ میں خود کو مجتمع نہیں کر پاتا۔۔۔ میں خود کو سمیٹ نہیں پاتا۔۔۔
قوم پرستی۔۔۔ حب الوطنی۔۔۔ مجھے جڑنے نہیں دیتی۔۔۔
میں یہ سب کیوں لکھ رہا ہوں۔۔۔
غالباً ۔۔۔ نہیں بلکہ یقیناً خارجی عوامل نے مجھے یہ منتشر الفاظ قرطاس پر مزید منتشر کرنے کے لیے مجبور کیا ہے۔۔۔
میں بہت کچھ کہنا لکھنا چاہتا ہوں ۔۔ مگر پھر۔۔۔ چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔ خوف سے۔۔۔ کہ کہیں لوگ مجھے برا نہ کہیں، برا نہ سمجھیں۔۔۔ لوگ مجھ سے بدگمان نہ ہوجائیں۔۔۔ لوگ مجھے طعن و تشنیع سے نہ نوازیں۔۔
کہ کہیں۔۔
لوگ مجھے "کافر" نہ قرار دے دیں۔۔
کہ کہیں۔۔
لوگ مجھے "غدار" نہ قرار دے دیں۔۔۔
انڈیا کا ایجنٹ نہ قرار دے دیں۔۔
استعمار کا puppet نہ قرار دے دیں۔۔۔
میں ڈرتا ہوں۔۔۔
میں نے دیکھا۔۔ ایک جگہ لکھا ہوا تھا۔۔۔ کہ پاکستان "مدینۂ ثانی" ہے۔۔۔
میں نے اللہ کی بارگاہ میں استغفار کی۔۔۔
میں نے عرض کی اے اللہ انہیں معاف کردے، یہ نا سمجھ ہیں۔۔
جاہلوں، جھوٹوں، کم تولنے والوں، دھوکہ دینے والوں کے دیس کو۔۔۔ نبی کے دیس سے ملا رہے ہیں۔۔
اللہ فرماتا ہے: "لا اقسم بہٰذا البلد۔۔۔ و انت حل بہٰذا البلد"۔۔۔
اللہ کسی شہر کی قسم اس وجہ سے فرما رہا ہے کہ اس کا حبیب اس شہر میں مقیم ہے۔۔ اور اجہل (ابو جہل نہیں) قسم کے لوگ ایک غیر ملک کو نبی کے دیس سے ملا رہے ہیں۔۔
ایک جگہ لکھا دیکھا کہ "پاکستان" کا عربی میں ترجمہ "مدینہ طیبہ" ہے۔۔۔
میرے منہ سے مغلظات کا طوفان امڈ پڑا۔۔۔ (اللہ میری مغفرت فرمائے۔۔۔ )
میرے محبوب نبی کے شہر کو اس ملک سے ملا رہے ہیں۔۔۔ جس کی کوئی کل سیدھی نہیں۔۔۔
یہ کس قسم کے لوگ ہیں؟؟
حب الوطنی کو قرآنی تقدس کا درجہ کیوں دے دیتے ہیں؟؟
کیا ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو ہندوستان سے محبت نہیں؟؟
کیا ہندوستان مسلمانوں کا ملک ہے؟ نہیں نا۔۔
کیا پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے؟؟؟
مجھے نہیں سمجھ آرہا میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔۔۔ میں نے بغیر کوشش کے اس تحریر کی بے ترتیبی اور بے ربطی برقرار رکھی ہے۔۔
شاید اس قسم کی تحریر کسی ربط (اور رطب و یابس) کی محتاج نہیں۔۔
"پاکستان اسی دن بن گیا تھا جس دن سندھ کی زمین پر محمد بن قاسم کے پیر لگے تھے"۔۔۔
ہاہاہاہاہاہااہ۔۔۔ ۔
پاکستان دوسرے ممالک سے زیادہ فوقیت رکھتا ہے کیا؟؟
Proud To Be Pakistani
اللہ فرماتا ہے (مفہوم): "ہم نے تمہیں قوموں اور قبیلوں میں بانٹ دیا تاکہ تم پہچانے جاؤ" (اگر غلط ہوں تو میری اصلاح کیجیے)۔۔
اور۔۔
نبی نے فرمایا: "کسی کو کسی پر فوقیت نہیں سوائے تقویٰ کے۔۔"
تو پاکستانی ہونا تفاخر کی بات کیسے ہوگیا؟؟؟
تو۔۔۔
کیا باقی اقوام اللہ کی مخلوق نہیں ہیں؟؟
کیا باقی ممالک اللہ کے بنائے ہوئے نہیں ہیں؟؟
کیا پاکستان سے زیادہ خوبصورت ملک دنیا میں کوئی نہیں؟؟
یعنی باقی دنیا سے اللہ ناراض تھا کہ جو اس نے باقی دنیا کو پاکستان سے کم حسن دیا؟؟
میں کیا لکھوں۔۔۔ میں بھول گیا میں کیا کیا لکھنا چاہ رہا تھا۔۔۔

Tuesday, March 27, 2012

آپ بہت عجیب ہیں: ڈوکٹر پیرزادہ قاسم

غم سے بہل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں
درد میں ڈھل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں

سایۂ وصل کب سے ہے آپ کا منتظر مگر
ہجر میں جل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں

اپنے خلاف فیصلہ خود ہی لکھا ہے آپ نے
ہاتھ بھی مَل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں

وقت نے، آرزو کی لَو، دیر ہوئی، بجھا بھی دی
اب بھی پگھل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں

زحمتِ ضربتِ دِگر دوست کو دیجئے نہیں
گر کے سنبھل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں

دائرہ وار ہی تو ہیں عشق کے راستے تمام
راہ بدل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں

دشت کی ساری رونقیں، خیر سے گھر میں ہیں، تو کیوں
گھر سے نکل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں

اپنی تلاش کا سفر ختم بھی کیجیے کبھی
خواب میں چل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں

ڈوکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی

Thursday, March 8, 2012

حالتِ حال کے سبب، حالتِ حال ہی گئی : جون ایلیا


حالتِ حال کے سبب، حالتِ حال ہی گئی
شوق میں کچھ نہیں گیا، شوق کی زندگی گئی

ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کہی گئی ، بات نہیں سنی گئی

بعد بھی تیرے جانِ جاں ، دل میں رہا عجب سماں
یاد رہی تیری یہاں، پھر تیری یاد بھی گئی

اس کی امیدِ ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپ
عمر گزار دیجئے، عمر گزار دی گئی

اس کے وصال کے لئے، اپنے کمال کے لئے
حالتِ دل، کہ تھی خراب ،اور خراب کی گئی

تیرا فراق جانِ جاں! عیش تھا کیا میرے لئے
یعنی تیرے فراق میں خوب شراب پی گئی

اس کی گلی سے اٹھ کے میں آن پڑا تھا اپنے گھر
ایک گلی کی بات تھی اور گلی گلی گئی


جون ایلیاء

بشکریہ: پاکستانیکا

Saturday, February 18, 2012

ابھی تو میں جوان ہوں: حفیظ جالندھری


حفیظ جالندھری صاحب کی مقبولِ عام نظم "ابھی تو میں جوان ہوں۔۔" جو کہ میرے اس بلوگ کی تھیم بھی ہے :)۔ کافی دنوں سے پوسٹ کرنے کا ارادہ تھا، جسے آج عملی جامہ پہنا ہی دیا۔۔۔۔

بشکریہ صریرِ خامۂ وارث از محمد وارث بھائی۔


ابھی تو میں جوان ہوں۔۔۔

ہوا بھی خوش گوار ہے
گلوں پہ بھی نکھار ہے
ترنّمِ ہزار ہے
بہارِ پُر بہار ہے
کہاں چلا ہے ساقیا
اِدھر تو لوٹ، اِدھر تو آ
یہ مجھ کو دیکھتا ہے کیا
اٹھا سبُو، سبُو اٹھا
سبُو اٹھا، پیالہ بھر
پیالہ بھر کے دے اِدھر
چمن کی سمت کر نظر
سماں تو دیکھ بے خبر
وہ کالی کالی بدلیاں
افق پہ ہو گئیں عیاں
وہ اک ہجومِ مے کشاں
ہے سوئے مے کدہ رواں
یہ کیا گماں ہے بد گماں
سمجھ نہ مجھ کو ناتواں

خیالِ زہد ابھی کہاں
ابھی تو میں جوان ہوں

عبادتوں کا ذکر ہے
نجات کی بھی فکر ہے
جنون ہے ثواب کا
خیال ہے عذاب کا
مگر سنو تو شیخ جی
عجیب شے ہیں آپ بھی
بھلا شباب و عاشقی
الگ ہوئے بھی ہیں کبھی
حسین جلوہ ریز ہوں
ادائیں فتنہ خیز ہوں
ہوائیں عطر بیز ہوں
تو شوق کیوں نہ تیز ہوں
نگار ہائے فتنہ گر
کوئی اِدھر کوئی اُدھر
ابھارتے ہوں عیش پر
تو کیا کرے کوئی بشر
چلو جی قصّہ مختصر
تمھارا نقطۂ نظر

درست ہے تو ہو مگر
ابھی تو میں جوان ہوں

نہ غم کشود و بست کا
بلند کا نہ پست کا
نہ بود کا نہ ہست کا
نہ وعدۂ الست کا
امید اور یاس گم
حواس گم، قیاس گم
نظر کے آس پاس گم
ہمہ بجز گلاس گم
نہ مے میں کچھ کمی رہے
قدح سے ہمدمی رہے
نشست یہ جمی رہے
یہی ہما ہمی رہے
وہ راگ چھیڑ مطربا
طرَب فزا، الَم رُبا
اثر صدائے ساز کا
جگر میں آگ دے لگا
ہر ایک لب پہ ہو صدا
نہ ہاتھ روک ساقیا

پلائے جا پلائے جا
ابھی تو میں جوان ہوں

یہ گشت کوہسار کی
یہ سیر جوئبار کی
یہ بلبلوں کے چہچہے
یہ گل رخوں کے قہقہے
کسی سے میل ہو گیا
تو رنج و فکر کھو گیا
کبھی جو بخت سو گیا
یہ ہنس گیا وہ رو گیا
یہ عشق کی کہانیاں
یہ رس بھری جوانیاں
اِدھر سے مہربانیاں
اُدھر سے لن ترانیاں
یہ آسمان یہ زمیں
نظارہ ہائے دل نشیں
انھیں حیات آفریں
بھلا میں چھوڑ دوں یہیں
ہے موت اس قدر قریں
مجھے نہ آئے گا یقیں

نہیں نہیں ابھی نہیں
ابھی تو میں جوان ہوں
——–

Thursday, February 2, 2012

بچپن: یادِ ماضی 2۔۔





پچھلی پوسٹ کی یہ اگلی قسط آنے میں بہت دیر ہو گئی۔ کچھ طبیعت لکھنے پر مائل بھی نہ تھی (رہی بھی کب ہے) اور کچھ گوں نا گوں مصروفیات۔ بہر حال، ہمارے بلوگ پر آنے والے ہیں بھی گنتی کے چند ہی افراد، تو ہم لکھیں بھی تو کس کے لیے؟؟

پچھلی یاد داشت تحریر کرنے کا محرک ہمارا اپنے آبائی علاقے میں عرصے بعد تمام گھر والوں کے ساتھ جا کر اپنے گھر کا معائنہ کرنا تھا۔ جس جگہ پر انسان کا بچپن گزرا ہو وہ جگہ ہمیشہ دل کے پاس رہتی ہے۔ اور اکثر خواب بھی انسان اسی ماحول میں دیکھتا ہے۔ مطالعہ کے ساتھ ساتھ جو تصور اشیاء کے بارے میں قائم ہوتے ہیں، وہ بھی اسی جگہ کے ساتھ مختص ہو جاتے ہیں۔ کم سے کم ہمارے ساتھ تو ایسا ہی ہوا ہے۔ کوئی کہانی یا نوول پڑھتے ہوئے واقعات اور مقامات کے تصور کے ساتھ وہی جگہیں ابھرتی ہیں کہ جہاں ہم نے اپنے سنہرے دن گزارے تھے۔ اسی وجہ سے غالباَ بچپن اور وہ جگہیں زیادہ لبھاتی ہیں۔ مگر اب سب کچھ پہلے سا تو نہیں رہا نا!!! ہر شخص یہی کہتا ہے۔۔۔کہ حالات اور دن رات پہلے سے نہیں رہے۔۔۔ شاعر کہتا ہے: "کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں، جاناں!"۔۔ مگر شاعر صاحب، زمانہ، ماحول، زندگی، دنیا، سب کچھ تو بدل جاتا ہے۔۔۔ زمین، آسمان، خوشبو، دیوار و در، رشتے ناتے، ہماری سوچیں، یہ سب بھی بدل جاتے ہیں، اور ہم انسانوں کے بدلنے کی وجہ بھی غالباً یہی ہے۔ یا پھر ان چیزوں کے بدلنے کی وجہ انسان کا بدل جانا ہے؟؟ اس بات کا فیصلہ واقعی مشکل ہے کہ کون کس پر دار و مدار کر رہا ہے۔ مگر ایسا کیوں ہوتا ہے۔ "ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں" ۔۔۔ ایسا کیوں۔۔۔ "تبدیلی انسان کا خمیر ہے" ۔۔۔ایسا کیوں؟؟ اقبال عظیم مرحوم کا ایک شعر:

"اب تو چہرے کے خد و خال بھی پہلے سے نہیں،
کس کو معلوم تھا تم اتنے بدل جاؤ گے"

ہمیں بچپن کی شدت سے یاد فقط اس لیے ہی نہیں آتی کہ وہ بے فکری کے دن تھے اور کھیل کود اپنا شیوہ۔ بلکہ ہمیں مشتاق احمد یوسفی والے "نوسٹیلجیا" نے مارا ہوا ہے۔ اور یہ نوسٹیلجیا غالباً کم عمری میں ہی یوسفی صاحب کی کتب پڑھنے کے بعد مزاج میں در آیا ہوگا۔ یا پھر یہ ہمارا طبع زاد نوسٹیلجیا ہے، اس بارے میں بھی حتمی طور پر ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ خیر، ان یادوں کے بارے میں ہمیں یوں لگتا ہے جیسے آپکا ماضی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شاندار اس وجہ سے لگنے لگتا ہے کہ آپ کے تجربات آپ کو ماضی کے جھروکوں میں سے سنہری پل ہی دکھاتے ہیں، تلخیوں اور خامیوں کو ایسے چھان دیتے ہیں جیسے کسی پردے سے چھن کر آنے والی سورج کی روشنی! نہ نگاہوں کو خیرہ کرے، نہ آپ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارا کریں۔ ٹھنڈی، خوشگوار، سنہری دھوپ۔ جس کی کرنوں میں حدت بھی گوارا بلکہ مطلوبہ حد تک موجود۔ اور جب یہ دھوپ ختم ہوجائے تو اس کی تمنا اور تشنگی باقی۔ جیسے صحرا کے بھٹکے ہوئے پیاسے کو دو گھونٹ پانی۔ کیا ہم سب کو اپنا بچپن اور ماضی ایسے دو گھونٹوں جیسا ہی نہیں لگتا؟ کہ جیسے ابھی آیا تھا اور ابھی گزر گیا۔ ابھی تو بہت سے کام باقی تھے۔ ابھی تو اسے کھل کر جینا تھا۔ ابھی تو اس کی لذت سے قلب و جگر کو معمور بھی نہیں کیا تھا!! یا پھر یہ ایسا ہے کہ اس بچے نے ہوس میں مشروبِ زندگی سے اپنے شکم کو اس قدر لبالب بھر لیا کہ اس کی لذت ہونٹوں پر، دہن میں، زباں پر موجود و باقی اور حلق کو اس کی حلاوت سے تر کیے ہوئے ہے۔ اور آنے والے لمحوں میں اس لذت کی یاد دل کو تڑپاتی ہے، مچلاتی ہے کہ کاش! بچپن لوٹ آئے اور یہ جام دوبارہ ہونٹوں سے لگانا نصیب ہوں۔

بچپن میں ہر چیز اپنے سے بڑی معلوم ہوا کرتی ہے، دیو کی طرح، اونچی، وسیع و عریض۔ جیسے جیسے زندگی اور زمین کے طول و عرض میں ہماری آنکھیں پھیلتی ہیں، ہمیں اشیاء کے درست قد و قامت کا اندازہ ہوتا جاتا ہے۔ یہی حال شخصیت پرستی کا بھی ہے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم جو قحط الرجال کا رونا مچاتے رہتے ہیں، اس کی وجہ بھی یہی آنکھوں کی خیرگی کم ہوتے جانا ہے۔ جبھی شاید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ "حسن تو دیکھنے والی آنکھ میں ہوتا ہے"۔ کیوں کہ ہم کسی شخص کو کسی وجہ سے بڑا اور عظیم مان لیتے ہیں، مگر اکثر اوقات ہمارا ہی تجربہ ہمارے اس اخذ کردہ نتیجے کو غلط ثابت کر دیتا ہے تو اس شخص کی شان ہماری نظروں میں گھٹ جاتی ہے۔ بات تو فقط اتنی ہے کہ پہلے ہمارا تجربہ کم وسیع اور نظر زیادہ سخی تھی۔ جیسے جیسے تجربہ بڑھا، نظر کوتاہ ہوتی گئی۔ حتیٰ کہ یہ کوتاہ نظری انسان کو خود پسندی اور تکبر میں بھی لے جا گراتی ہے۔ خیر یہ تو جملۂ معترضہ بلکہ سارا پیراگراف ہی معترضہ ہوگیا۔ جب ہم اپنے اس گھر میں ٹہل رہے تھے تو سوچ رہے تھے کوئی بارہ پندرہ برس قبل تو یہ دیواریں ہمیں دیو قامت دکھائی دیتی تھیں، گھر ایک محل سرا لگتا تھا، گلیاں کوچے اور سامنے والا پارک ایسے لگتا تھا جیسے سب کچھ بہت بڑا اور عظیم الشان ہو۔ اور چشمِ تصور نے بھی ایسا ہی کچھ خیال باندھا ہوا ہے۔ مگر یہ تو سب چیزیں معمول سے بھی چھوٹی اور پھیکی دکھائی دیتی ہیں۔ تو وہ بچپن کی شان کدھر گئی، وہ چمک دمک، وہ قامت و زیبائی کدھر گئی۔ کیا وہ صرف خواب و خیال تھا؟ اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ تخیل پر "چیری بلوسم پولش" پھرتی گئی؟ اور آج یہ شاندار قلعے زمین بوس ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ جون ایلیاء کے اشعار ملاحظہ ہوں:

ہم رہے پر نہیں رہے آباد،
یاد کے گھر نہیں رہے آباد،

شہرِ دل میں عجب محلے تھے،
ان میں اکثر نہیں رہے آباد۔


مگر وہ خوشبو تو ہم محسوس کر سکتےہیں۔ کیوں کہ اس خوشبو کے لیے ہم قوتِ شامہ کے محتاج نہیں۔ تخیل کی پرواز جہانِ دگر میں پہنچا دیتی ہے، یہ تو پھر ہمارا دیکھا بھالا بچپن کا جہان ہے۔ "جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لیا"۔۔

یہ خوشبو سانسوں میں بسی رہنے کے لیے ہی موجود تھی شاید۔ زندگی بھی کیا خوبصورت چیز ہے۔ انسان اسے جیسا محسوس کرے یہ اسی روپ میں سامنے آتی ہے۔ ہم شاید ماضی کو ماضیٔ تمنائی سمجھتے ہیں، جبھی وہ ہمیں اتنا خوبصورت اور شاندار لگتا ہے۔ تمنا مر جائے تو زندگی کی خوبصورتی اور شان بھی کہاں برقرار رہتی ہے۔ ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا۔۔۔۔۔ کی جگہ "تمنا کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا" ، ہونا چاہیے تھا J  ۔۔۔ ہم اپنے تخیل کو بھی تمنا کے تابع کر سکتے ہیں اور یہی تمنا ماضی کو بھی آپ کی مرضی کے مطابق ڈھال کر آپ کے سامنے لا کھڑا کر سکتی ہے!!


Thursday, December 15, 2011

بچپن: یادِ ماضی!!!۔







انسانی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے شہر کی سڑک۔ لہراتی بل کھاتی اپنی منزل کی طرف رواں دواں۔ مگر اس سڑک کی موجودہ شکل کے نیچے، کہیں نیچے اس کا ماضی دفن ہوتا ہے۔ مختلف وقتوں کولتار ڈال  ڈال کر اسے پختہ بنایا جاتا رہتا ہے۔ کہیں ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرنے کے لیے یا کبھی کسی تشریف لانے والے صدر یا وزیرِ اعظم کے استقبال کے لیے۔ تہہ در تہہ کولتار بچھ بچھ کر اس سڑک کی وہ شکل ہوجاتی ہے جو آپ ہم دیکھتے ہیں۔ اور ضروری نہیں وہ شکل اچھی بھی ہو!!

زندگی کی اس سڑک پر کتنے ہی مقام آتے ہیں۔۔ کتنی ہی تہیں چڑھ جاتی ہیں، کتنے ہی روپ ہم بدل لیتے ہیں اور ۔۔ کتنے راستے بدلتے ہیں۔۔  مگر آپ نے دیکھا ہوگا۔ جب سڑک کھودی جاتی ہے تو اس کی نچلی پرتیں نظر آنے لگتی ہیں۔ لیکن ہر پرت واضح نہیں ہوتی۔ اپنا الگ تشخص وہی پرت رکھتی کہ جس کا مال مسالہ مضبوط اور جاندار ہو۔انہی جاندار پرتوں میں سے ایک انسان کا بچپن ہوتا ہے۔

آپ کتنے ہی خول چڑھا جائیں۔ کتنی ہی تہوں کے اوپر بالانشین ہوں۔ آپکا حال، آپکا چہرہ کتنا ہی جاذب و خوبصورت کیوں نہ ہو، زندگی کی  سب سے خوبصورت تہہ  میں کنویں کی سی گہرائی والا بچپن ہوتا ہے۔ ایسا کنواں کہ جس میں آپ نہ بھی پکاریں تو ماضی کی بازگشت یہ آپکو خود بخود سناتا رہے گا۔ آپ اسے جتنی بھی کوشش کر کے بھلانا چاہیں، یہ آپ کو رہ رہ کر یاد آتا ہے۔ کبھی خلوت میں آپکو رلا دیگا، تو کبھی جلوت میں قہقہے لگوا دیگا۔۔۔ یا کبھی کسی سوچ میں گم آپ یکایک بچپن کی کوئی بات یاد آنے  پر بے اختیار مسکرا اٹھیں گے۔۔

پچھلے دنوں ہم کراچی کے ایک پسماندہ سے علاقے لانڈھی میں اپنے آبائی گھر گئے تھے۔ ہم نے اسی گھر میں آنکھ کھولی، وہی پلے بڑھے، وہیں کھیلے کودے اور وہیں شعور کی ابتدائی منازل طے کیں۔  ہماری سنہری یادیں اسی گھر اور اسی محلے سے وابستہ ہیں۔ بچپن کے دن ایسے لگتے ہیں جیسے وقت ٹھہر گیا ہو اور ہر شئے پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہی ہو۔۔

وہ گھر ہمارے دادا کو حکومت کی طرف سے ملا تھا۔ ایک چھوٹا سا کوارٹر تھا جو قیامِ پاکستان کے کچھ سالوں بعد بسائی جانے والی لانڈھی کولونی کا حصہ تھا۔ کوارٹر ملنے کے بعد وقتاً فوقتاً ابو نے آپ پاس کی خالی زمین حکومت سے لیز کرالی تھی۔ یوں ایک کمرے کا کوارٹر کئی کمروں پر مشتمل بڑے سے گھر میں تبدیل ہوگیا تھا۔ اس گھر کی خاص بات یہ تھی کہ ہمارےابونے جب بھی "منّے مستری" سے اس گھر میں کام کروایا، ساتھ میں خود بھی لگ جاتے تھے۔ یوں اس گھر کی بنیادوں میں ہمارے والدِ محترم کا خون پسینہ محاورتاً ہی نہیں، حقیقتاً بھی شامل رہا۔ اس گھر کی ایک ایک دیوار اور ہر ہر چھت میں ابو کی محنت شامل تھی۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ کچھ تو ان  کو ہمیشہ سے سخت محنت کی عادت اور شوق رہا، دوسرے انہوں نے میٹرک کے بعد کچھ عرصے تک سول ڈرافٹنگ کی تربیت حاصل کی تھی۔ کبھی وہ ہتھوڑی چھینی لے کر دیوار میں آرچ بنا رہے ہوتے تو کبھی سمینٹ کی بھاری بھرکم سلیبیں لکڑی کی سیڑھی سے چڑھتے ہوئے "منّے مستری" کو تھما رہے ہوتے۔ اورہمیں اس بات پر ہمیشہ فخر رہا کہ ہم اپنے ابو کے ہاتھ کے بنے ہوئے خوبصورت گھر میں رہے۔

اس گھر کے ساتھ ابو نے ایک چھوٹا سا مگر بہت ہی خوبصورت پائیں باغ بنا رکھا تھا جس میں دنیا جہاں کے پودے اور پھول موجود تھے۔ زندگی میں ہم نے جب بھی کسی کتاب میں "باغ" کا لفظ پڑھا، ہمیشہ ہمارے دماغ میں اسی پائیں باغ کا تصور آیا۔ اور یہ تصور آج تک قائم ہے۔ اللہ ہماری گستاخی کو معاف فرمائے مگر جنت کے باغوں کے تصور سے بھی وہی باغ ذہن میں آجاتا ہے (بلا مثال و تمثیل)۔  جب بھی اس باغ کا تصور ہمارے ذہن میں آتا ہے، اسکی خوشبوئیں آج تک ہمارے مشامِ جاں کو معطر کر دیتی ہیں۔ ایک تو اس وقت آلودگی برائے نام تھی، دھوپ میں تازگی تھی، شام میں سرشاری تھی اور راتیں فرحت بخش ہوا کرتی تھیں۔ اس وقت کا تصور ہی ہمارے لیے کتنا جانفزا ہے ہمارے احباب شاید اندازہ بھی نہ کر سکیں۔۔ سنا ہے، اور سفید و سیاہ تصاویر میں دیکھا بھی ہے، وہ باغ ہمارے دنیا میں وارد ہونے سے پہلے اپنے جوبن پر تھا اور خواب و خیال کا باغ تھا۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب کراچی میں جناح بین الاقوامی ہوائی اڈہ اپنی تعمیرِ نو کے دور سے گزرا تھا اور ہمارے گھر سے میلوں کے فاصلے پر ہونے کے باوجود ہمارے گھر کی بالائی ٹنکی سے اس کی روشنیاں اور خدوخال صاف نظر آتے تھے۔ اب کی آلودگی اور بجلی کی قلت کے دور میں تو نہ ہوائی اڈے پر وہ روشنیاں رہیں اور نہ اتنے فاصلے کی چیز صاف نظر آتی ہے۔ ضعفِ نظر  بھی غالباً ایک وجہ ہوسکتا ہے۔

(باقی اگلی قسط میں)




Friday, December 2, 2011

زاہد سو رہا ہے۔۔۔

کئی دن ہوگئے کچھ تحریر کیے ہوئے۔ 

اپنے اس جملے سے ہمیں دلاور فگار صاحب کا مشہورِ زمانہ مصرعہ یاد آگیا:

ع           حالاتِ حاضرہ کو کئی سال ہوگئے۔۔۔

واقعی اب تو ہمیں لگنے لگا ہے ہمارے حالاتِ حاضرہ مستقلہ مستمرہ ہوگئے ہیں۔ جمود ہے کہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ زنگ ہے کہ لگتا چلا جا رہا ہے۔ کچھ ایام قبل ہم نے کتب پر جو ہلہ بولا تھا، اب وہ جوش بھی کچھ ٹھنڈا دکھائی دیتا ہے۔ کافی ساری کتب ان پڑھی موجود ہیں اور جنہیں جلد ختم کرنا ہے کیوں کہ اس مہینے میں کراچی کا عالمی کتب میلہ آرہا ہے۔ اور ہم اس دفعہ وہاں سے ٹھیک ٹھاک خریداری کرنے کا ارادہ کیے بیٹھے ہیں۔

کتب میلے سے یاد آیا، پچھلے سال کراچی بین الاقوامی کتب میلے میں ہمیں فرہنگِ آصفیہ، جس کی عرصے سے خواہش تھی، سستے داموں مل رہی تھی، مگر نہ جانے کیوں ہم نے وہ چھوڑ دی۔ اب ویلکم بک پورٹ پر قیمت معلوم کی تو دل مسوس کر رہ گیا۔۔

خیر دوستو!

بات ہورہی تھی حالاتِ حاضرہ کی۔ ہماری مراد سیاست کے پیچ و خم سے نہیں، بلکہ ہمارے اپنے حالاتِ حاضرہ سے ہے۔ انسان جو کچھ سوچتا ہے وہ ہوتا نہیں۔ اسلیے ہم اب یہ سوچتے ہیں کہ اب جو بھی کام کریں گے سوچے بغیر بس عمل کر ڈالیں گے۔ تاکہ زندگی کی گاڑی کچھ تو آگے بڑھے۔ 


Friday, November 18, 2011

غزل: نالہ کیا کیجے، فغاں کیا کیجے



بحرِ رمل میں میری ایک غزل۔ کافی اغلاط ہیں اس میں کوئی صاحب اصلاح فرمانا چاہیں تو ممنون ہونگا۔


 نالہ کیا کیجے، فغاں کیا کیجے،
دل نہیں لگتا یہاں، کیا کیجے،


دل تو اظہارِ تمنّا چاہے،
وہ نہیں سنتے، بیاں کیا کیجے،


شوخیٔ گل کا خدا حافظ ہو،
بلبلیں گریہ کناں،کیا کیجے،


جام سب خالی پڑے ہیں دل کے،
چل دیا پیرِ مغاں، کیا کیجے،


کب ملے ہیں حسینوں کے خطوط؟
چند تصویرِ بُتاں کیا کیجے،


چھوڑ کر بیٹھ گیا جو ہم کو،
اس کے بن جائیں کہاں، کیا کیجے،


شب سی تاریکی سرِ شام ہے کیوں,
دل مرا ڈوب گیا، کیا کیجے


محمد امین قریشی۔


ابھی مکمل اصلاح نہیں ہوپائی ہے اس غزل کی۔
مگر کافی حد تک اصلاح کے لیے ممنون ہوں:

اعجاز عبید انکل

Tuesday, November 8, 2011

پاکستان کی بندوقیں۔۔۔


میں نے کچھ عرصہ قبل سرفراز شاہ قتل کیس کے سلسلے میں ایک مضمون انگریزی میں فیس بک پر لکھا تھا۔ جوں کا توں یہاں پیش کر رہا ہوں۔ بشرطِ موڈ اسے اردو میں ترجمہ کرکے بھی پیش کردوں گا۔ امید ہے معلومات افزاء ہوگا۔


After 2 days of discussion and regrets about the 9th June incident of Clifton, I recognized a fact that besides the inhuman behaviour of security personnel out there, certain facts need to be analysed carefully and sensibly. First of all, individuals from law-enforcing forces should always act with their nerves held. This job is not like guarding a bank or vault, where you suspect every coming person to be the robber. Besides, there are other interesting facts that my friends and readers might not be knowing quite well.

I decided to write this note as a technical critique on counter-terrorism, becuase this has been my lifetime passion, and in fact I have some knowledge about the stuff.

The Ranger fired two shots at the youngster from a distance of approximately 6 feet, which he received on his forearm and on thigh. Reports claim he died of excessive bleeding. And fact is he was shot with a very high power battle rifle, that is used by militaries in warfare. The rifle was G3, which is considered to be a severly damaging rifle.

Currently, almost all of the armed forces of Pakistan, paramilitary forces and Police forces have got high caliber guns as their main weapon, that include G3 (Made in Pakistan) and AK47 (Made in China). G3 is a battle rifle that is one of the most powerful rifles using high power cartridge of 7.62x51 mm (the bullet u may say) and an infantry weapon used in battles and sometimes mounted. While AK47 is an assault rifle that uses and intermediate cartridge that is 7.62x39mm, but still this caliber is considered to be a killing caliber. Only one bullet from these two rifles can destroy a concrete block. These are two of the most powerful and highest caliber rifles carried by the forces around the world. And are meant to engage the targets on long ranges and to penetrate the prtecting kevlars of enemy. Bullets fired from these two rifles(G3 and AK47) have capability to go through the human body making a large wound, thus more bleeding.

High power rifles have a trade off in length and weight too, and are quite ineffective in close-quarter combats and urban areas. One point I am missing here is 7.62x51mm cartridge is widely used in sniper rifles too, which certainly means it is made to KILL!

Now, there has been a debate on it in the civilized societies to use such powerful killer weapons in the combats and in the city law-enforcment. Some 40 years ago US announced the usage of smaller caliber 5.56x45mm cartridge for the service rifles. As for the civilian law-enforcement, they wanted to capture the culprits and terrorists alive, thus they have moved towards thesmaller caliber and less powerful rifles and SMGs. The most popular of which are M16 and M4 carbines and MP5 SMGs that were developed for this very reason. These are not only accurate and precise but also avoid the possibility of collateral damage in case of friendly fire. Also this helped in capturing the terrorists wounded yet alive and resulting in better investigations.

M4 and M16 carbines use 5.56x45mm cartridge while MP5 uses a pistol caliber 9x19mm cartridge. Now a days, civil law-enforcing agencies and special counter terrorism forces are  essentially using such weapons. That not only enhance their capabilities to use weapons effectively in close-quarter combats but also these weapons mostly injure the culprits engaging them unless they are not shot at vital spots. Allied forces in Iraq and Afghanistan mostly use these light weapons.

Paramilitary forces (Pakistan Ranger) deployed in Karachi and Sindh Police both use G3 and AK47 as their main weapon. This means there is less probablity that they would capture the culprits and terrorists alive. And imagine of a person shot two bullets from a distance of less than 10 feet, while these rifles are capable of firing upto 500m (yeah this is a freaking half of a kilometer). Thats why you saw that much blood in a few seconds of him getting shot.

Incident like that was happened in Kharotabad too. Frontier Corps (FC) jawans used G3 and AK47 rifles too. But that was an exception because they fired hundreds of shots. Which would eventually kill even an elephant if they had used .22LR cartridge (the smallest of all, used for bird hunting and shooting competitions). So that is the case of sensiblity and nerve control. This shows the bewilderment amongst our soldiers and forces personnel and this has, of course, certain reasons.

I think its about time Pakistani authorities change their minds and priorities about the selection of rifle calibers. This is a country that has got the world's renowned Army and the larget illegal arms market. We have got a sense of war and arms. We must realize the fact that using such high caliber weapons in streets and urban areas has been disastrous for us. The terrorists and culprits we shoot get killed and the rest flee. And we are left with a trail of the snake which we keep beating about the bush (I have mixed up the urdu and english idioms eh).

In the picture shown here, The third from left is the .308 Win or 7.62x51mm (G3) , third from right is the 7.62x39mm (AK47) and the 2nd from right is 5.56x45mm (M4 & M16 Carbines) cartridge.

Muhammad Ameen Qureshi
Comparison of rifle cartridges. The third from left if the .308 Win or 7.62x51mm (G3) , third from right is the 7.62x39mm (AK47) and the 2nd from right is 5.56x45mm (M4 & M16 Carbines) cartridge.

Photo courtesy Wikipedia.

کوّا چلا ہنس کی چال۔۔۔

کوا چلا ہنس کی چال۔۔۔۔
(ہماری اردو کی حالتِ زار)
محمد امینؔ  قریشی
قوموں کی ثقافت، تہذیب اور ترقی میں انکی زبان کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ زبان صرف رابطے ہی کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ تخلیق و ایجاد اور معاشرے کی روحانی آسودگی (spiritual peace) میں بھی مدد کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آدمی کی سوچ اور خواب اسکی مادری زبان میں ہی ہوتے ہیں، چاہے وہ خواب نیند کے دوران دیکھے جائیں یا جاگتے ہوئے۔ اور یہ بھی کہ تخلیق اور ایجاد (Invention and innovation) ہماری سوچ اور خواب کا ہی نتیجہ ہوتے ہیں۔ تو ہم بلاشبہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تخلیق کے لیے انسان کو اپنی زبان کا مکمل علم ہونا چاہیے۔

ہماری زبان اردو جس نے دہلی کے بازاروں، لکھنؤ کے مشاعروں اور حیدرآباد دکن کے دربار میں پرورش پائی اور جس کی بازگشت(Echo) لاہور اور کراچی کے ادبی حلقوں (Literary circles) میں اب تک گونجتی ہے، آج دنیا کے ایک بہت بڑے خطے، جنوبی ایشیاء میں کروڑوں لوگوں کی روزمرہ کی زبان ہے۔ اردو جو کہ "نستعلیق" رسم الخط (script) میں لکھی جاتی ہے، عربی، فارسی، سنسکرت اور ترکی زبانوں سے مل کر بنی ہے۔ مگر اردو آج ویسی زبان نہیں رہی جیسی آج سے کچھ سالوں پہلے ہوتی تھی۔ اردو زبان کی ترویج و ترقی (development & promotion) میں اردو شاعری اور ادب کا بہت گہرا ہاتھ رہا ہے۔ یہ صرف  پچھلی صدی کا ہی ذکر نہیں بلکہ دو ڈھائی سو سال پہلے جب اردو تشکیل پا رہی تھی اس وقت بھی شاعری نے ہی اسے سہارادیا تھا۔ یہی وجہ ہے  کہ جنوبی ایشیاء میں  آج تک جتنے بھی فلمی گیت اور غزلیں لکھی گئی ہیں ان میں سے اکثر اردو میں ہی رہی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ نہ صرف اردو شاعری میں بلکہ عام بول چال میں بھی بھاری بھرکم الفاظ متروک (dead) ہوتے گئے۔ خیر الفاظ کا آنا جانا تو زبانوں میں لگا ہی رہتا ہے، مگر جو کچھ پچھلے چند سالوں میں اردو زبان کے ساتھ ہوا ہے اس نے ہماری تہذیب اور ثقافت پر بہت شدید ضربیں لگائی ہیں۔

جس طرح انگریزی کے پیچھے بھاگ بھاگ کر ہم نے اپنی ثقافت کو گہنا  دیا ہے(distort) وہ سب کے سامنے ہے۔ تخلیق کا جو عنصر اردو کے شروع کے دور میں اور حتیٰ کہ پچھلی صدی کے شعر و ادب (literature) میں کھل کر نظر آیا وہ اب ہماری قوم سے مفقود(disappear) ہوتا جا رہا ہے۔ہماری قوم ایجادات کے معاملے میں بھی دوسری قوموں پر انحصار کرتی ہے کیوں کہ ہم نے اپنی اس تخلیقی صلاحیت  (creativity)پر بھروسہ کرنا نہیں سیکھا جو انسان کی سوچ میں اس کی اپنی مادری زبان کی صورت میں بھری ہوتی ہے۔ ہماری قوم نے خود کو آدھا تیتر جیسا بھی رنگ لیا اور آدھا بٹیر جیسا بھی اسی لیے ہم ویسے خالص نہیں ہیں جیسا انسان اپنی روایات اور ثقافت سے جڑ کر رہتا ہے۔ یہ بات کہنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انگریزی سیکھنا یا بولنا کوئی غلط بات ہے، بلکہ دوسری زبان  کو اپنی زبان میں اس حد تک شامل کر لینا کہ اپنی زبان کا حال حلیہ ہی بگڑ کر رہ جائے، یہ کسی بھی قوم کے مردہ ہونے کی نشانی ہے۔ کسی اور  ثقافت کو وقت کے تقاضے (need of the hour) کے نام پر اپنی ثقافت پر حاوی کرلینا ترقی یافتہ قوموں کی نشانی نہیں ہے۔ ہم نے شروع میں لکھا کہ تخلیق اور ایجاد کے لیے  اپنی زبان پر مکمل عبور اور معاشرے میں اس حوالے سے یکسانیت (harmony) بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔  جتنی بھی قومیں اب تک ترقی یافتہ ہیں وہ سب اپنی زبان میں ہی کمالِ فن (excellence) حاصل کر کے ہی دنیا میں سر اٹھا کر جینے کے لائق ہوئی ہیں۔

ہم یہ بات دعوے کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ انٹرنیٹ اور "جادوئی ڈبیا" یعنی موبائل فون کے اس انگریزی دور میں کتنے ہی لوگ ایسے ہونگے جنہوں نے بہت عرصے سے اپنا اور اپنے دوستوں کا نام اردو میں لکھا نہیں دیکھا ہوگا، حالانکہ کچھ موبائل فون میں اردو میں لکھنے کا بھی اختیار ہوتا ہے۔ مگر بہت سے لوگوں کو تو اردو درست پڑھنی بھی نہیں آتی۔  اور جہاں تک جدید ایجادات کا تعلق ہے تو ہمیں ان کے لیےاردو میں بھی اسی زبان کے الفاظ شامل کرنے پڑتے ہیں کہ جس سے اس ایجاد کا تعلق ہوتا ہے۔ اور اردو زبان کا حسن یہی ہے کہ وہ  دوسری زبانوں کو اپنے اندر جذب بھی کرلیتی ہے۔ مخصوص اصطلاحات(terms) کی حد تک تو یہ بات قابلِ قبول ہے لیکن جس چیز کے لیے اردو میں پہلے ہی سے کوئی مناسب لفظ موجود ہو اسے بھی انگریز کا کلمہ پڑھا دینا اردو کے لیے زہرِ قاتل ہے۔اسی طرح گفتگو کے دوران  ایک جملہ انگریزی میں بولنا پھر آدھا اردومیں پھر اگلا جملہ انگریزی میں بولنا ، یہ ملغوبہ (mixture) ہماری نسل کو اردو زبان سے دور کر رہا ہے۔نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہم نے دنیا میں اپنی شناخت کھو رہے ہیں کیوں کہ ہم نے اپنی زبان کی ثقافت اور روایات کو پروان نہیں چڑھایا، بلکہ دنیا کے ساتھ چلنے کی دھن میں جدیدیت کے دیوتا کی بھنیٹ چڑھا دیا۔

سیانے کہتے ہیں کہ اگر آپ نے آج اپنے مستقبل کے بارے میں نہیں سوچا تو آپکی قسمت کے فیصلے دوسرے لوگ کر رہے ہونگے۔ ایک قوم کے طور پر یہ بات ہم پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ تہذیب و ثقافت سے لے کر علم اور تاریخ تک ہم نے کسی بھی چیز کے بارے میں خود فیصلہ کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اپنی ترجیحات (priorities) کا تعین نہیں کر سکے۔ ہم نے اپنی ثقافت کو بوجھ اور جدید دور سے متصادم (conflicting) سمجھ کر اپنے معاشرے سے نکال باہر کیا، اسی وجہ سے آج ہم دوسروں کی ثقافت پر پل رہے ہیں۔ ہم نے اپنی تاریخ سے کوئی واسطہ نہیں رکھا، کہیں ایسا نہ ہوکہ  جو ہمارا آج ہے اسکی لکھی جانے والی تاریخ کسی اور کی مرہونِ منت ہو۔ نابینا مگر دانا شاعر اقبالؔ عظیم  نے خوب لکھا ہے:

اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤگے،
خواب ہوجاؤگے افسانوں میں ڈھل جاؤگے،

اپنے پرچم کا کہیں رنگ بھلا مت دینا،
سرخ شعلوں سے جو کھیلوگے تو جل جاؤگے،

اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو،
سنگِ مرمر پہ چلوگے تو پھسل جاؤگے۔۔

منتشر خیالات




(۲۷ اکتوبر ۲۰۱۱ کو رات ڈیڑھ بجے نیند نہ آنے کے سبب کچھ لکھنے کی ٹھانی۔۔اور منتشر سے الفاظ اور خیالات ہیں، امید ہےاحباب اغلاط سے صرفِ نظر کریں گے)


آج طبیعت ٹھیک نہیں تھی سارا دن۔ پچھلے دو دنوں سے انگلی کا کنارا اندرونی طور پر پک رہا ہے اور شدید دھوپ میں بائک کا سفر۔ آج صدرِ مملکت یا وزیرِ اعظم کے قافلے کی وجہ سے شاہراہِ فیصل کچھ دیر کو بند تھی اور اتفاق سے ہمیں بھی وہیں سے گزرنا تھا سڑی بسی دوپہر میں۔


اس تکلیف اور دھوپ کی شدت نے گھر آنے کے بعد بھی بے چین کیے رکھا۔ آدھی رات کے وقت 3 گھنٹے سے سونے کی کوشش کرتے ہوئے خیال آیا کہ منتشر خیالات کو جمع ہی کرلیا جائے۔

آگ کے شعلے برساتا سورج سر پر، اور آتش فشاں کے لاوے جیسا پگھلتا ہوا کولتار پیروں تلے۔ اس جگہ ٹریفک کھلنے کے انتظار میں کھڑے کھڑے اگر غلطی سے بائک کی ٹنکی پر یا ہیلمٹ پر ہاتھ لگ جاتا تو افسوس ہوتا کہ ہاتھوں کو ایک جگہ قرار کیوں نہیں۔۔


مزید یہ کہ گاڑیوں کے انجنوں کی گرمی منظر کو بھی پگھلا پگھلا دیتی ہے۔ جیسے صحرا میں دور کا منظر ہلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔۔


اس انتظار میں ذہن ناشائستگی کی حدوں کو پھلانگ چکا تھا۔ ساتھ کھڑا بائک سوار تو وہ کچھ فرما رہا تھا جو کہ صرف سنا ہی جا سکتا ہے۔ پیچھے دو ایمبولینسز کے بجتے ہوئے سائرن ،گویا فریاد کر رہے تھے، ہمیں اکسا رہے تھے کہ گذرنے والے قافلے سے پہلے ان چیلے چانٹوں اور شاہ کے وفاداروں کو سول نافرمانی تحریک کا مزا چکھا دیں۔ وہ شاہ کے وفادار جو کہ شاہراہِ فیصل کے ہر داخلی و خارجی رستے پر بند باندھے کھڑے تھے۔


شہرِ کراچی کا ٹریفک چل رہا ہو تو وبال اور رک جائے تو عذاب۔ جہاں بے ہنگم ہوجائے تو جھنجھلاہٹ خیز اور باسلیقہ چل رہا ہو تو انسانوں کو برداشت نہیں۔ 


چاروں سمتوں میں تا حدِ نگاہ اور تاحدِّ امکاں پھیلے ہوئے شہر میں "ویسٹ وہارف" سے "شمالی کراچی" تک کا سفر ایسا ہے جیسے کسی عاصی کا پلِ صراط کا سفر (الامان ۔۔ اللہ ہمیں معاف فرمائے)۔۔ یہ سطریں ہم اس لیے نہیں لکھ رہے کہ آج پہلی مرتبہ ان دو مقامات کے درمیان سڑکیں ناپیں۔ ہم کالج کے زمانے میں جناح برج (المعروف بہ نیٹی جیٹی) گھومنے جاتے تھے؛ سندھ مدرسۃ الاسلام سے پیدل!! اور واپسی گھر تک بس میں ہوتی تھی۔ بہرحال یہ سطریں اس بڑھتے ہوئے دباؤ کی بناء پر ہیں جو غبارے کو دھماکے کی آخری حد پر لا کھڑا کرتا ہے۔


کراچی شہر پاکستان کی آبادی کا کم از کم 10 فی صد ہے۔ اور روز بروز یہ عدد اضافہ پذیر ہے۔ گاڑیاں گو کہ لوس اینجلس کی طرح 1:1 کے تناسب سے نہیں ہیں مگر سڑکیں اور ٹریفک کا شعور اس تناسب سے نہیں ہے جو کہ اس حجم اور اس اہمیت کے شہر کا خاصہ ہونا چاہیے۔


ان سطروں کا مقصد گو کہ ذاتی اور داخلی کیفیات کا احاطہ کرنا تھا مگر ہمیں اس مقام پر ایسا لگ رہا ہے کہ ہمیں ٹریفک سے سیاست، معاشرت اور بین الاقوامی تعلقات پر آنے میں دیر نہیں لگے گی، تو واپس آتے ہیں اصل بات کی طرف۔


انگلی کے جس درد نے اس وقت ہمیں پریشان کیے رکھا ہے وہ ہے تو ہلکا سا ہی مگر کافی دنوں کے بعد کوئی تکلیف ہوئی ہے۔ تو اس نے ذات کے نہاں خانوں میں چھپے درد اور اسکے ما بعد کو جگا دیا ہے۔ 


آپ غلط اندازے نہ لگائیے، یہ کلّی طور پر ذاتی اور انفرادی معاملہ ہے، وہ روگ نہیں جو عموماً تارے بھی گننے پر مجبور کردیتا ہے۔ ہمارا درد ہماری ذاتی خواہشات، زندگی کے مقاصد اور بہت سے ادھورے سفر ہیں۔ 


انسان جب بہت زیادہ سوچنے لگے تو اس کے ہاتھ پیر زنگ آلود ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے سوچ اور عمل میں توازن ہونا چاہیے۔ جب نظر سفر کے بجائے فقط منزل پر مرکوز رہے اور زہد کے بجائے خیالِ زہد ہی پیشِ نظر رہے تو آدمی طریق در طریق، سفر در سفر بھول بھلیوں میں گم ہوتا چلا جاتا ہے۔ راہِ طریقت میں بھی یہی معاملہ ہے۔ لوگ شیخِ طریقت کو ہی "طریق" جان لیتے ہیں حالانکہ وہ تو ایسا سنگِ راہ ہے جو راستے بھر ساتھ ساتھ چلتا ہے۔


سوچتے ہیں زندگی سے کیا کیا کچھ لے کر اسے کیا کیا لوٹایا-

کہیں سے خواب لیے، کہیں سے ارادے لیے۔ کہیں سے ولولہ اور کہیں سے فقط جھڑکیاں۔


ابھی ہم چھوٹے ہی تھے کہ جہازوں کی آواز اور فضاؤں پر حکمرانی بھانے لگی، تو سوچا پائلٹ ہی بننا ہے۔جہازوں کو "ٹاٹا" کیا کرتے تھے۔پھر سوچتے تھے جب ہم مانندِ عقاب فضاؤں کا سینہ چیرتے ہوئے جب شہروں اور دیہاتوں پر سے گذریں گے تو کئی "امینوں" کے ہاتھ ہمارے لیے بھی فضا میں بلند ہوجائیں گے۔


بچپن سے لڑکپن اور پھر نوجوانی تک آتے آتے ادراک ہوا کہ "کچھ شہر کے لوگ بھی ظالم ہیں۔۔۔کچھ ہمیں بھی مرنے کا شوق ہے"۔۔۔۔ اپنے شوق کو مار کر بھلا کون زندہ رہ سکتا ہے۔ اور ہم نے ایک شوق ہی کا قتل نہیں کیا بلکہ ہماری زندگی یکے بعد دیگرےشوق پالنے اور پھر اسکا قتل کرنے میں ہی گذری ہے۔۔


نوجوانی آتے آتے کمانڈو بننے کی دھن سمائی مگر جسامت اور نظر دونوں کمزور (اور کسی حد تک دل بھی)۔۔۔


کرکٹ سے بچپن ہی سے جنون کی حد تک محبت۔ ایسا جنون جو حقیقی معنیٰ میں رگوں میں دوڑتے خون کی مانند ہو۔ جس کی روانی جسم و جاں کو تروتازہ کردے اور مشامِ جاں کو معطر۔ مگر روزانہ 30 کلومیٹر کا سفر کرکے جامعہ جانا اور پھر واپس آنا اس قابل نہیں چھوڑتا تھا کہ اس جنون سے اپنی خرد کو جلا بخش سکتے۔ اس کے باوجود 2 سال قبل نیٹ پریکٹس کے لیے جاتے تھے اور وہ چند دن ہماری زندگی میں ہمیشہ لکھے رہیں گے، مدھم پڑجانے والے سنہری حروف کی طرح۔ے).


زمانۂ طالبعلمی کے شدید دباؤ کے باوجود ہم نے بھی Randy Pausch کی طرح اپنے خوابوں کی تعبیروں کی طرف دھیان دیا۔ اور اب اس دباؤ سے نکل کر ہمیں یوں لگتا ہے کہ فی الحال اعضاء اور اعصاب منتشر ہیں مگر دھن موجود اور سالم۔

(Randy Pausch کے بارے میں جاننے کے لیے یوٹیوب پر Really Achieving Your Childhood Dreams لکھ کر تلاش کیجیے).



زندگی ایک مسلسل خواب کی طرح گذاری۔ اب وقت ہے اسکی تعبیر میں روح پھونکنے کا۔ خوابوں کے یک رنگی کینوس میں قوسِ قزح کے رنگ بھرنے کا۔ 


ہم جب بہت تکلیف میں ہوتے ہیں تو تکلیف کو اور بھی زیادہ محسوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح ہماری سوچ کا زاویہ وسیع ہوجاتا ہے اور ہم وہ کچھ لکھنے اور کہنے کے قابل ہوجاتے ہیں جو عام حالات میں ذہن کے اندر گرد کی دبیز تہہ تلے پڑا رہتا ہے۔ آج انگلی کی تکلیف اور سفر کی تھکان نے ہمارے ذہنی گھوڑوں کو دوڑا کر کچھ لکھوا ہی ڈالا۔۔

Saturday, July 4, 2009

رہتا ہوں اب بوجھل بوجھل: میری ایک غزل

رہتا ہوں اب بوجھل بوجھل،
کاندھوں کاندھوں گویا دلدل،

نظروں سے ہے اوجھل اوجھل،
میری آنکھوں کا وہ کاجل،

زوروں پر رہتا ہے اکثر،
غم کا دریا، بہتا کاجل،

برسا تھا وہ عرصہ پہلے،
اب تک من ہے سارا جل تھل،

افسانے کا آخر طے ہے،
دل میں ہے پھر کیسی ہلچل؟

گھر سے نکلے ایسے میں جب،
گھِر کر آئے کالے بادل۔

(محمد امین قریشی)

فراغت کیسی ہوتی ہے؟" : ایک اور آزاد نظم"

فراغت کیسی ہوتی ہے؟؟

فراغت جب بھی ملتی ہے،
خوشی سے جھوم جاتا ہوں،
طَرَب کے نغمے گاتا ہوں،

ہزاروں کام ہوتے ہیں،
جنہیں عرصے سے کرنا ہو،
مگر جو وقت نہ ملنے پہ اکثر چھوڑ دیتا ہوں،

فراغت جب بھی ملتی ہے،
بس اک یلغار ہوتی ہے،
وہ سارے کام جو میں نے،
ادھورے چھوڑے ہوتے ہیں،
مجھے سب یاد آتے ہیں،

فراغت میں بھی اکثر پھر،
بہت مصروف ہوتا ہوں،
مگر پھر تھک کے میں بستر پہ اپنے بیٹھ جاتا ہوں،
تذبذب اور تھکن سے پھر،
بہت مجبور ہو کر تب،
وہ سارے کام میں یکبارگی میں چھوڑ دیتا ہوں!!!

(محمد امین قریشی)

۔۔


اس نظم کے وزن اور بحر کے حوالے سے میں نے دو مشاق شعراء سے مشورہ کیا، جن کی سند میرے لیے اعزاز ہے۔ ایک تو انڈیا کے ادیب و شاعر "اعجاز عبید" جو کہ ایک اون لائن جریدے "سمت" کے مدیر بھی ہیں۔ اور دوسرے پاکستان کے کہنہ مشق شاعر" محمد وارث"۔ :)۔

Thursday, July 2, 2009

موجودہ کراچی اورمصطفیٰ کمال


بہتے نالے، ٹوٹی سڑکیں، گھنٹوں ٹریفک جیمز، دھول، مٹی، آلودگی، کچرے کے انبار۔۔۔یہ ہوا کرتا تھا نقشہ چند برس پہلے کے کراچی کا۔ ۲۰۰۹ کے کراچی میں گو کہ سب کچھ ہی اچھا نہیں ہوگیا، مگر بہت سی چیزیں جنکی میں نے نشاندہی کی، وہ اب اتنی نمایاں نہیں۔ کراچی شہر جو کہ مملکتِ پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور بلا مبالغہ پاکستان کادرست "چہرہ" ہے، اس شہر کی اکثریتی جماعت کے نامزد کردہ ناظم کی زیرِ نگرانی ستاروں کا سفر تو نہیں مگر پھر بھی بہت بلندیوں کا سفر کر رہا ہے۔ بہت سے لوگوں کو مگر یہ ترقی نہیں بھاتی۔ وہ اعتراض کرتے پائے جاتے ہیں۔۔ کہتے ہیں کہ جو ہورہا ہے غلط ہورہا ہے، اس طرح نہیں ہونا چاہیے۔

کچھ لوگوں نے تو مصطفیٰ کمال کا نام ہی مصطفیٰ "کدال" رکھ ڈالا۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ کیا غلط ہورہا ہے اور کیا صحیح۔۔۔

پہلے تو ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ترقی ہوتی کیا ہے اور کیا اجزاء ترقی کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ ترقی راتوں رات تبدیلی کا نام نہیں۔ ترقی "عدم" سے "وجود" میں آجانے کا نام نہیں۔ ہمارے کچھ بھائی یہ سمجھتے ہیں کہ ترقی "کُن" سے ہوتی ہے (معاذاللٰہ)۔۔۔کہ بس جناب جو بھی صاحبِ اقتدار اب کے آیا ہے، وہ بس آتے ہی سب کچھ ٹھیک کردے۔ ارے بھائی ترقی ایسے تھوڑی ہوتی۔ ترقی ایک طویل المدتی عمل ہے۔ جس ملک میں تعلیم کا یہ حال ہو کہ بورڈ کے امتحانات رٹا لگا کر اور "گیس پیپرز" کے ذریعے دیے جاتے ہوں، جہاں تحقیق سے ایسے کنی کترائی جاتی ہو گویا یہ اچھوت کی بیماری ہو، وہاں چند سالوں میں "ترقی" کے خواب دیکھنا حماقت کا درجۂ اخریٰ ہے۔

مصطفیٰ کمال نے جو کچھ بھی کراچی میں کیا ہے، اسے رجائیت پسندوں کی نظر میں تو "ترقی" کہا جا سکتا ہے، مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے، خود مصطفیٰ صاحب بھی یہی فرماتے ہیں۔ دراصل انہوں نے "ترقی کا سفر" شروع کیا ہے۔ ان کے دور میں ہمیں یہ احساس ہونا شروع ہوا ہے کہ ترقی کیسے کی جاتی ہے۔ عوام کی رقم عوام کی بہبود پر کس طرح خرچ کی جاتی ہے، یہ ہمیں مصطفیٰ کمال نے بتایا۔

رہا سوال کہ جو ترقی کا سفر جاری ہے، وہ "بین الاقوامی" معیارات کے مطابق نہیں ہے۔ تو بھائی یہ باسٹھ سالہ مملکت چین نہیں ہے، یورپ یا امریکہ نہیں ہے۔ یہ جاگیرداروں کی جنت ہے، وڈیروں کی سرزمین ہے۔ سیاست دانوں کے تعیش کی جگہ ہے، جہاں وہ ۵ سالہ اقتدار فقط آسائشیں حاصل کرنے کے لیے سنبھالتے ہیں۔ اگر میں یہ حساب بتانے بیٹھوں کہ ہمارے محصولات کی رقم کا کتنا بڑا حصہ سیاستدانوں اور "اونچے گریڈ" کے بیورو کریٹس کے الائونسز پر خرچ ہوتا ہے تو موضوع سے ہٹ جائوں گا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ ایک "استحصالی" معاشرہ ہے۔ استحصالی معاشروں میں ترقی یا تو مصنوعی ہوتی ہے یا بہت سست۔ کیونکہ معاشرتی عوامل اور ہمارے رویے ترقی کو مانع ہوتے ہیں۔

جو لوگ مصطفیٰ کمال کے مخالف ہیں، اس سے یہ استدعا ہے کہ ٹھنڈے دماغ سے سوچیے۔۔۔ آپ امریکہ میں نہیں رہ رہے، اپنے آپ کو یہ کہہ کر دھوکے میں خدارا نہ رکھیے کہ "یہ ملک اللہ کی عطا ہے، اور دنیا بھر میں جتنا ٹیلنٹ ہے اس سے زیادہ اس ملک میں پایا جاتا ہے"۔ خدارا اس بکواس کو لگام دیجیے۔ اپنے آپ کو پہجانیے۔ یہ ملک یا آپ یا ہم آسمان سے نہیں اترے۔ ہم بہت برے ہیں۔۔اور ہمیں اس برائی کو اپنے اندر سے نکالنا ہے۔ اگر کوئی شخص تبدیلی کی بات کرتا ہے تو خواہ مخواہ سو فیصد کی تمنا مت رکھیے۔ کیونکہ جو کچھ وہ کر رہا ہے وہ باسٹھ برسوں میں کوئی بھی شخص نہیں کر سکا۔ وہ غلط بھی کر رہا ہوگا یقیناً۔۔۔مگر یہ آج کا غلط کل کے "صحیح" کی بنیاد ہے۔ اگر آج آپ ترقی کی "کوالٹی" سے ناخوش اور پریشان ہیں تو فکر نہ کیجیے۔ مصطفیٰ کمال کے بعد آنے والا اس سے بہتر کرے گا، کیونکہ اس شخص
نے ایک "طرزِ عمل" کی بنیاد رکھی ہے، جو کہ پہلے سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔

اگر اگلے مئیر یا ناظم کو مصطفیٰ کمال کے دور میں بننےوالے کسی فلائی اوور کو گرانا پرے یا کسی سڑک کو کھودنا پڑے تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں بلکہ ترقی کا عمل ہے۔ یہ ایسے ہی جاری رہتا ہے، اور پاکستان کے معروضی حالات میں ترقی اس طور ہی ممکن ہے۔

تنقید کیجیے، مگر ستائش کرنا بھی نہ بھولیے۔ اچھے کام کی تعریف کرنا تو کام کرنے والے کا حق ہے۔ ہاں مگر جو چیز غلط ہورہی ہو اس سے پہلو تہی بھی نہ کیجیے۔ احساس دلائیے کہ یہ غلط ہورہا ہے، تو ممکن ہے اگلی دفعہ میں سب کچھ بہتر ہو، اور یہی ہم سب کی تمنا بھی ہے۔ کوئی شخص یا ادارہ مکمل اور آئیڈیل نہیں ہوتا، خاص کر ہمارے پیارے ملک میں تو ایسا ناممکن ہے۔ تو امید رکھیے مگر حقیقت پسندی کے ساتھ!۔

والسلام
ترقی کے لیے پر امید
محمد امین قریشی