Wednesday, August 15, 2012

حب الوطنی

ہممم ۔۔۔ کہاں سے بات شروع کروں۔ ۔۔۔ 
حب الوطنی۔۔۔
بے ترتیبی میرا طرۂ امتیاز ہے۔ سو یہ تحریر بے ترتیب اور بے ربط ہی سہی۔ ربط (رطب؟؟) تلاش کرنا قاری کے ذمے، دروغ برگردنِ راوی ہی سہی۔
ملک کیا ہے؟ وطن کیا ہے؟ قوم کیا ہے؟ ملت کیا ہے؟ گھر کیا ہے؟ خاندان کیا ہے؟ میں کیا ہوں؟
کئی برس بیت گئے مجھے یومِ آزادی منائے ہوئے۔ جس گھر کی خاطر اجداد نے گردنیں کٹوادیں اس گھر کی تشکیل کا جشن اور خوشیاں منائے ہوئے۔۔۔
مگر۔۔۔
ترانے اب بھی میری روح میں سرشاری گھول دیتے ہیں۔۔۔
مگر۔۔۔
اب بھی میری ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ جاتی ہے، جب میں وطن کی محبت سے بھرپور نغمات، منظومات اور تقاریر سنتا ہوں۔۔
کچھ ہے۔۔۔ جو خون میں شامل ہے۔۔ کچھ ہے جو خون میں گرمی کا باعث ہے۔۔
کچھ۔۔۔ ہے۔۔
جس کی وجہ سے جذبات کا پرسکون سمندر ٹھاٹھیں مارنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔۔۔
کیا یہی حب الوطنی ہے؟
کیا مجھے وطن سے محبت ہے؟
کیا وطن سے محبت کرنا جائز ہے؟
کیا قوم پرستی ایک صحیح الدماغ شخص کا کام ہے؟
جغرافیہ۔۔۔ کیا ہوتا ہے؟ جغرافیے کا قوم پرستی سے کیا تعلق ہے؟
پاکستان کا نقشہ میرے لیے مقدس کیوں ہے؟
کچھ لوگوں کی طرف سے میرے اوپر مسلط کردہ جھنڈا مقدس کیوں ہے؟
اگر یہ جھنڈا لال ہوتا تو کیا ہوتا؟؟ ہرا ہے تو کیا ہوگیا؟ اگر یہ لال ہوتا تو کیا مجھے اس جھنڈے سے پیار نہ ہوتا؟
قومی ترانہ حفیظ نے لکھ ڈالا تو کیا ہوا؟؟ مجھے تو حفیظ کے قومی ترانے سے زیادہ "ہندو" جگن ناتھ آزاد کا لکھا ہوا:
"اے سرزمینِ پاک،
ذرے ترے ہیں آج، ستاروں سے تابناک،
روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک،
اے سرزمینِ پاک"
زیادہ سلیس، رواں، فصیح لگتا ہے اور دل کو لبھاتا ہے۔۔۔
اگر جگن ناتھ کا لکھا ہوا ترانہ قومی ترانہ قرار پاتا تو کیا ہوتا؟؟؟ کیا قوم کو اس سے محبت نہ ہوتی۔۔۔ بجائے ایک عدد مفرس (بلکہ فارسی) ترانے کے۔۔۔
اگر پاکستان کے نقشے میں افغانستان بھی شامل ہوتا، ایرانی بلوچستان بھی شامل ہوتا تو کیا ہوتا؟؟؟
کیا ملک "الہامی" بھی ہوتے ہیں؟؟؟ اگر الہامی ہوتے ہیں تو بنگلہ دیش کہاں گیا؟؟ کشمیر کہاں گیا؟ جونا گڑھ کہاں گیا؟ بلوچستان کہاں جا رہا ہے؟
اگر۔۔۔ پاکستان اللہ کی عطا ہے تو پہلا وزیرِ خارجہ اس جماعت کا کیوں تھا کہ جو متفقہ طور پر خارج از اسلام ہے۔
اگر۔۔۔ اگر۔۔۔ اگر۔۔ اگر۔۔۔ اگر۔۔۔ اگر۔۔۔ اگر۔۔۔
مگر۔۔۔ مجھے اپنی مٹی سے محبت ہے۔۔۔ میری مٹی پر اگر آج بھی انگریز کی حکومت ہوتی۔۔۔ تو بھی مجھے اس سے محبت ہوتی۔۔۔
کہ۔۔
چلچلاتی دھوپ میں سر پہ اک چادر تو ہے
لاکھ دیواریں شکستہ ہوں پر اپنا گھر تو ہے
پاکستان کا نام پاکستان کے بجائے کچھ اور ہوتا تو؟؟
خیبر پختونخواہ کا نام جب این ڈبلیو ایف پی تھا۔۔تو کیا اس کے لوگوں کو اس سے محبت نہیں تھی؟؟ اب خیبر پی کے ہوگیا ہے تو کیا زیادہ محبت ہوگئی ہے؟؟ افغانیہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ صرف خیبر ہوتا تو؟؟ مگر خیبر تو غالباً عرب میں ایک قلعے کا نام تھا نا؟؟ تو مستعار لیے گئے نام سے جغرافیے کے طور پر محبت؟؟؟
سب کچھ منتشر ہے۔۔۔ سب کچھ بکھرا ہے۔۔۔ میں خود کو مجتمع نہیں کر پاتا۔۔۔ میں خود کو سمیٹ نہیں پاتا۔۔۔
قوم پرستی۔۔۔ حب الوطنی۔۔۔ مجھے جڑنے نہیں دیتی۔۔۔
میں یہ سب کیوں لکھ رہا ہوں۔۔۔
غالباً ۔۔۔ نہیں بلکہ یقیناً خارجی عوامل نے مجھے یہ منتشر الفاظ قرطاس پر مزید منتشر کرنے کے لیے مجبور کیا ہے۔۔۔
میں بہت کچھ کہنا لکھنا چاہتا ہوں ۔۔ مگر پھر۔۔۔ چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔ خوف سے۔۔۔ کہ کہیں لوگ مجھے برا نہ کہیں، برا نہ سمجھیں۔۔۔ لوگ مجھ سے بدگمان نہ ہوجائیں۔۔۔ لوگ مجھے طعن و تشنیع سے نہ نوازیں۔۔
کہ کہیں۔۔
لوگ مجھے "کافر" نہ قرار دے دیں۔۔
کہ کہیں۔۔
لوگ مجھے "غدار" نہ قرار دے دیں۔۔۔
انڈیا کا ایجنٹ نہ قرار دے دیں۔۔
استعمار کا puppet نہ قرار دے دیں۔۔۔
میں ڈرتا ہوں۔۔۔
میں نے دیکھا۔۔ ایک جگہ لکھا ہوا تھا۔۔۔ کہ پاکستان "مدینۂ ثانی" ہے۔۔۔
میں نے اللہ کی بارگاہ میں استغفار کی۔۔۔
میں نے عرض کی اے اللہ انہیں معاف کردے، یہ نا سمجھ ہیں۔۔
جاہلوں، جھوٹوں، کم تولنے والوں، دھوکہ دینے والوں کے دیس کو۔۔۔ نبی کے دیس سے ملا رہے ہیں۔۔
اللہ فرماتا ہے: "لا اقسم بہٰذا البلد۔۔۔ و انت حل بہٰذا البلد"۔۔۔
اللہ کسی شہر کی قسم اس وجہ سے فرما رہا ہے کہ اس کا حبیب اس شہر میں مقیم ہے۔۔ اور اجہل (ابو جہل نہیں) قسم کے لوگ ایک غیر ملک کو نبی کے دیس سے ملا رہے ہیں۔۔
ایک جگہ لکھا دیکھا کہ "پاکستان" کا عربی میں ترجمہ "مدینہ طیبہ" ہے۔۔۔
میرے منہ سے مغلظات کا طوفان امڈ پڑا۔۔۔ (اللہ میری مغفرت فرمائے۔۔۔ )
میرے محبوب نبی کے شہر کو اس ملک سے ملا رہے ہیں۔۔۔ جس کی کوئی کل سیدھی نہیں۔۔۔
یہ کس قسم کے لوگ ہیں؟؟
حب الوطنی کو قرآنی تقدس کا درجہ کیوں دے دیتے ہیں؟؟
کیا ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو ہندوستان سے محبت نہیں؟؟
کیا ہندوستان مسلمانوں کا ملک ہے؟ نہیں نا۔۔
کیا پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے؟؟؟
مجھے نہیں سمجھ آرہا میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔۔۔ میں نے بغیر کوشش کے اس تحریر کی بے ترتیبی اور بے ربطی برقرار رکھی ہے۔۔
شاید اس قسم کی تحریر کسی ربط (اور رطب و یابس) کی محتاج نہیں۔۔
"پاکستان اسی دن بن گیا تھا جس دن سندھ کی زمین پر محمد بن قاسم کے پیر لگے تھے"۔۔۔
ہاہاہاہاہاہااہ۔۔۔ ۔
پاکستان دوسرے ممالک سے زیادہ فوقیت رکھتا ہے کیا؟؟
Proud To Be Pakistani
اللہ فرماتا ہے (مفہوم): "ہم نے تمہیں قوموں اور قبیلوں میں بانٹ دیا تاکہ تم پہچانے جاؤ" (اگر غلط ہوں تو میری اصلاح کیجیے)۔۔
اور۔۔
نبی نے فرمایا: "کسی کو کسی پر فوقیت نہیں سوائے تقویٰ کے۔۔"
تو پاکستانی ہونا تفاخر کی بات کیسے ہوگیا؟؟؟
تو۔۔۔
کیا باقی اقوام اللہ کی مخلوق نہیں ہیں؟؟
کیا باقی ممالک اللہ کے بنائے ہوئے نہیں ہیں؟؟
کیا پاکستان سے زیادہ خوبصورت ملک دنیا میں کوئی نہیں؟؟
یعنی باقی دنیا سے اللہ ناراض تھا کہ جو اس نے باقی دنیا کو پاکستان سے کم حسن دیا؟؟
میں کیا لکھوں۔۔۔ میں بھول گیا میں کیا کیا لکھنا چاہ رہا تھا۔۔۔

28 comments :

  1. بہت عمدہ جی بہت عمدہ
    بالکل سچ کہا اور سچ یہاں ایسے ہی ٹکڑوں ٹکڑوں میں ہی بولا جا سکتا ہے ورنہ لوگوں سے ہضم نہیں ہو پاتا

    ReplyDelete
  2. عمل سے زندگی بنتی ہے ۔ اچھے عمل سے اچھی اور بُرے عمل سے بُری ۔ اگر دین اسلام پر اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے عمل نہیں کرتے تو قصور دین اسلام کا نہیں ہے ۔ عمل نہ کرنے والوں کا ہے ۔ اگر پاکستان کے باشندے پاکستانی ہونے کا حق ادا نہیں کرتے تو قصور باشندوں کا ہے ۔ آدمی جس ٹہنی پر بیٹھا ہو اُسی کو کاٹنے لگے تو محفوظ نہیں رہتا

    ReplyDelete
  3. جگن ناتھ آزاد نے پاکستان کا ترانہ یا قومی نغمہ لکھا ۔ یہ حقیقت نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو اس سلسلے میں
    http://www.theajmals.com/blog/2010/06/13

    بات تاریخ جغرافیہ کی نہیں انسانی فطرت کی ہے جو اللہ نے بنائی ہے ۔ بلکہ انسان ہی کیا پرندے اور چوپائے بھی جہاں پیدا ہوتے اور پلتے بڑھتے ہیں اس جگہ کو نہیں بھولتے یا یوں کہیئے کہ اس جگہ سے محبت کرنے لگتے ہیں ۔

    ReplyDelete
  4. آپ نے جو فرمایا وہ ایک خاص مکتبہ فکر کے حامل لاگوں کی فکر کا غماز ہے۔ حقیقتا آپ نے ایک قطعہ اراضی کو موضوع بحث بنایا۔ حالانکہ یہ ایک نظریہ حیات یعنی اسلامی نظریہ ہے جو یہ پاکستان کہلاتا ہے۔ آپ کے مکتبہ فکر کی خصوصیت یہی ہے کہ وہ نان ایشو کو ایشو بنا کر غلط طریقے سے درست چیز پر تنقید کرتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ابن علقمی کے پیروکار ابھی زندہ ہیں۔ ان باطل قوتوں کو کچلنے کے لیے پھر سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کسی غلام کی ضرورت ہے۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. This comment has been removed by the author.

      Delete
    2. aur aap ney jo farmaya wo b ek khaas maktab e fikr k hamil logo ki soch h, aisey maktaba e fikr ki khususiat ye h k jb daleel khatam hjatey hein aur mantaq kaam nahn karta to akhir kaar kisi na kisi trah zer e bahas mozoo ko ghuma phira k mazhab e islam aur batil qouto'n se jorney lagtey hein.. aur phir mantaq ki jagah jazbaati harbo'n ka be-tahasha istimal kartey huay samney waley shakhs ki islam se muhabbat per shukook o shubhaat paida kardete hein... aur asal mozoo se bhaag kharey hotey hein... lihaza bilkul isi trah me b ap k barey me kah skta hun:
      "ان باطل قوتوں کو کچلنے کے لیے پھر سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کسی غلام کی ضرورت ہے۔"
      magr me aisa kahunga nahin... kyon k ye mera tareeqa nhin...

      (mere paas urdu font kaam nahin karraha, magr me urdu bakhoobi janta hun, ye na kahiayga k urdu b nahin likhni aati)

      Delete
  5. مختصرا یہ کہ جس بندے نے کتابیں "جب امرتسر جل رہا تھا، مصنف خواجہ افتخار" ، "شہاب نامہ، مصنف قدرت اللہ شہاب" ، "خاک اور خون مصنف نسیم حجازی" نہیں پڑھیں اسے شاید ان حقائق سے آگاہی نہ ہو جو قیام پاکستان کے دوران تھے۔ دراصل 14 اگست 1947 بمطابق 27 رمضان 1366بروز جمعرات یا اگلا دن کہہ لیں، یعنی کہ جس دن آزاد پاکستان قائم ہونے کا اعلان تھا کیونکہ ہندوستان پر تو تب بھی ماؤنٹ بیٹن کی حکومت تھی، آزاد تو صرف پاکستان تھا، بھارت تو اس دن بھی غلام ہی رہا۔ میرا مطلب اس دن دہلی پر پاکستان کا پرچم لہرایا تھا۔ لیکن بد قسمتی سے تین دن بعد چاند رات کو آل انڈیا ریڈیو دلی(دہلی) کی سماچار کے مطابق اہنسا کے دیوتا کے پجاری دہلی، جونا گڑھ، حیدرآباد دکن،فیروز پور، گورداس پور، اور دیگر بیشتر علاقہ جات کو ماؤنٹ بیٹن اور ریڈ کلف کی بد دیانتی اور بنیے کی فسطائیت والی سوچ کے بل بوتے پر کائنات کی پرامن قوم امت مسلمہ سے چھین کر لے جا چکے تھے۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. مجھے آپ کی باتیں سن کر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کہ آپ پاکستان کو قرآن کی آیت سمجھتے ہیں۔ آپ صاحبِ کتاب آدمی ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ آپ کا مطالعہ بھی کافی وسیع ہے۔
      مجھے آپ سے چند سوالات کرنے ہیں۔ اگر آپ کی اجازت ہو:
      ۱) اگر پاکستان قرآن کی آیت تھا تو کیا ۱۹۷۱ کے سانحہ کے بعد یہ آیت آدھی رہ گئی ہے؟
      ۲) اگر پاکستان ایک اسلامی ریاستی تھی تو برصغیر کے جید ترین علماِ دین نے اس کی مخالفت کیوں کی تھی؟
      ۳) قائد اعظم کو کافر اعظم (معاذ اللہ، لیکن نقل کفر، کفر نباشد) کیوں کہا گیا، اور مولانا مودودی نے پاکستان کو ناپاکستان کیوں کہا؟
      ۴) اگر پاکستان ایک اسلامی ریاست تھی تو اس کا پہلا آرمی چیف عیسائی کیوں تھا؟ کیا نبی کریم (ص) کی فوج کا کوئی سپاہ سالار غیر مسلم تھا؟
      ۵) اگر پاکستان ایک اسلامی ریاست تھی تو قائد اعظم نے یہ کیوں فرمایا کہ : مذہب کا ریاست کے امور سے کوئی تعلق نہیں؟ ( حوالہ: جناح صاحب کی اا اگست ۱۹۴۷ کی تقریر جو انھوں نے پہلی آئین ساز اسمبلی کے سامنے کی۔)
      ۶) اگر پاکستان اسلام کے لیے بنا تھا، تو بھارت میں ۱۷ کروڑ مسلمان کیوں رہ رہیں ہیں؟ اور آپ کو علم ہونا چاہیے کہ وہ اپنی عبادات پاکستان کے مسلمانوں سے زیادہ آزادی اور خوشی سے کرسکتے ہیں۔
      ۷) اگر پاکستان ایک اسلام ریاست بنے کو تھی تو مسلم لیگ کی اکثریت 'جاگیردار' کیوں تھی؟ اور آج پاکستان پر پنجابیوں کا قبضہ کیوں ہے؟
      ۸) اگر پاکستان اسلام ریاست تھی تو پھر جس زمین پر پاکستان قائم ہے، اس کی عوام نے پاکستان کے لیے قربانی کیوں نہیں دی؟
      مجھے تو آپ کا نام بھی نہیں معلوم، معلوم نہیں آپ نے اپنا نام کیوں چھپایا ہوا ہے؟ جس طرح اپنے آپ کو افکارِ مسلم یا افکارِ محمد کہنے سے یہ افکار آپ میں پیدا نہیں ہو جائیں گے۔ اس ہی طرح پاکستان کو اسلامی جمہوریہ کہنے سے یہ اسلامی جمہوریہ نہیں بن جائے گا۔ یہ ملک تو ہر اقلیتی مسلک، اقلیتی قوم، اقلیتی زبان، اقلیتی نسل کے لیے ایک لعنت ہے۔ اس پر بحث کبھی اور صحیح!
      باقی رہی اسلام کی بات تو حضرات اسلام جب بھی تھا، جب پاکستان کا وجود نہیں تھا، اور اسلام مستقبل میں بھی رہے گے، چائے پاکستان رہے یا نہ رہے۔ آدھا ٹوٹ چکا ہے، بہت کا کچھ پتہ نہیں، آج ٹوٹا یا کل ٹوٹا۔
      یہ صرف آپ کی ایک غلط فہمی ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا۔ پاکستان اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کے لیے ایک معاشی حل کے طور پر وجود میں آیا۔ قائد اعظم بجا طور پر مذہبی حکومت کے شدید مخالف تھے۔
      آپ سے درخواست ہے کہ آپ ریاست کی لکھی ہوئی تاریخ مت پڑھیں، بلکہ عوام کی لکھی ہوئی تاریخ کا مطالعہ کریں۔
      شکریہ۔

      Delete
    2. This comment has been removed by the author.

      Delete
    3. آداب
      سوری
      Kumail Ahmed
      صاحب ! دراصل صاحب بلاگ کو میرے نام وغیرہ کا پتہ تھا۔ عبدالرزاق قادری ۔ اور افکارِ مسلم میرا بلاگ ہے۔ میں شناخت چھپاتا نہیں ہوں بس ذرا اس بلاگ پر غلطی ہو گئی مغالطے میں۔
      میں نے ابھی تک کوئی کتاب بھی طبع نہیں کروائی۔ آپ نے خوب زور دار بحث فرمائی۔ میرا مؤقف میرا ہی تھا اور ہے۔ آپ نے جس مؤقف کا رد کیا وہ پتہ نہیں کس کا تھا۔

      Delete
    4. آپ کے جواب کا بہت شکریہ۔

      حضرت میں نے کہیں بھی نہیں لکھا کہ آپ نے کتاب طبع کی ہے۔ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا تھا کہ ہم سب کو مختلف منہاجات سے تاریخ پڑھنی چاہیے، جس میں سب سے اہم منہاج عوامی تاریخ ہے، جو کہ طاقتور ٹولے کے کنٹرول میں مشکل سے آتی ہے۔ خیر یہ بحث کسی اور وقت کرلیں گے۔

      میں آپ کا مؤقف مکمل طور پر سمجھ گیا۔ اور حضرت یہ مؤقف آپ ہی کا ہے، میں نے کہیں نہیں لکھا کہ آپ نے کسی سے ادھار لیا ہے۔ اس قسم کا مؤقف میں کئی سالوں سے سن رہے ہوں۔ میں نے آپ سے کچھ سوالات کیے تھے، جس کا جواب صرف وہ لوگ دے سکتے ہیں جو پاکستان کو اسلامی ریاست سمجھتے ہیں۔

      جناب عبدالرزاق قادری صاحب، اگر آپ پاکستان کو اسلامی ریاست نہیں سمجھتے تو یہ بحث اس ہی لمحے ختم ہو جائے گی۔ پھر آپ اور ہم ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ لیکن اگر آپ کی رائے نفی میں ہے، تو میں آپ سے استفاصہ حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ میں آپ کا امتحان نہیں لے رہا۔ یہ سوالات انتہائی موضوع سوالات ہیں۔

      میری رائے تو صاف صاف ہے کہ پاکستان اسلام کے لیے نہیں بنا اور نہ ہی اسلام کو پاکستان کی ضرورت ہے۔

      Delete
  6. لیکن جس کو آپ تقسیم کہتے ہیں در اصل وہ آزادی تھی اور ہاں! حقیقی آزادی۔ لیکن جن اساتذہ نےسرحد پار بھی مشرقی پاکستان کے بچوں کو فکری طور پر یرغمال بنا کر قومیت کے نام پر اپنے اسلامی ملک کو دو ٹکڑے کرنے تک مشتعل کر دیا تھا انہوں نے انڈیا میں بسنے والے بچوں کے افکار کے ساتھ کیا کیا سلوک نہ کیا ہو گا۔ اب آج 2012 میں بلوچستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اگر ریڈ کلف اینڈ کمپنی یہ مکروہ دھندہ کر کے "خاک اور خون کی نئی لکیر" نہ کھینچتی تو کیا دس لاکھ مسلمان شہید ہوتے۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ 14 اگست 1947 سے تین دن تک مسلمانوں نے اعلان کردہ اپنے حصے میں ایک بھی ہندو یا سکھ پر ظلم کیا ہو۔ غیر متعصب مؤرخ سے ثابت کیا جائے۔۔۔۔۔۔! یا پاکستانی مسلمانوں نے جوابی طور پر بھی ظلم کیا ہو؟ غیر متعصب جواب۔۔۔؟ کشمیر تو ڈوگرہ راج کے ظلم کی نذر ہوا، جونا گڑھ اور حیدرآباد دکن کے معاملے میں کیوں نا انصافی برتی گئی۔ پاکستانی بچے بچیاں اس لیے نہیں بولتے کیونکہ ظاہر ہے کہ وہ میٹرک، ایف اے، بی اے میں بھی "مطالعہ پاکستان" کو مجبورا پڑھتے رہے۔ خدارا آپ ری سرچ کیجے۔ میں کیا کیا اور کہاں تک لکھوں۔ آپ کو محمد علی جناح اور اہنسا کے دیوتا کے اصلی چہرے تحقیق کے بعد نظر آئیں گے۔ آخر میں کشمیر پر یہ کہوں گا کہ ہم بد طنیت لوگ ہیں۔ اگر "ماڈرن ورلڈ اینڈ پاکستان" 1950 والی تقریر والے دورہ امریکہ کی بجائے، روس کا دورہ رد نہ کیا ہوتا تو شاید کشمیر کا کوئی نہ کوئی حل ابتدائی ایام میں ہی نکل آتا۔ اور صورت حال کچھ مختلف ہوتی۔ پھر ہمارا "نمبردار" ایک ہی رہتا۔ چاہے وہ بھی اشتراکیت اور دہریت میں ڈوبا ہوا تھا۔ لیکن دو طرفہ یا چومکھی پردانسی کے گھیراؤ سے پاکستان بچ جاتا۔ اور شاید فیصلے کرنے کا کچھ اختیار خود بھی رکھ لیتا۔ جس طرح انڈیا 15 اگست 1947 کو آزاد نہ ہوا بلکہ ماؤنٹ بیٹن کی تحویل میں رہا بالکل اسی طرح ہماری پاک فوج بھی جنرل گورسی کی کمانڈ میں تھی ورنہ کشمیر 1947 والے جہاد میں آزاد ہو چکا ہوتا۔ اور ہمارا عقیدہ ہونا چاہیے کہ جنوبی کوریا کے مسمانوں سے لے کر ایشیا، افریقہ، یورپ و امریکہ اور نیوزی لینڈ تک کے مسلمان "خودمختار اور آزاد تو ضرور ہونے چاہیئں مگر بنگال اور بلوچستان کی طرح باغی نہیں"۔ میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ہم نے اپنے بنگالی بھایئوں اور بلوچ بھایئوں کے ساتھ ہر گز انصاف نہیں کیا۔ لیکن وہ بھی فکری یرغمال ضرور ہوئے ہیں۔ ہم سب ایک ہیں۔ سب کو "انما المؤمنون اخوۃ" کی تصویر ہونا چاہیئے۔ "ٹوبہ ٹیک سنگھ" کے مصنف کے بارے میں میرے جملہ تاثرات محفوظ ہیں۔ یہ فرق فکری تربیت کا ہوتا ہے۔ ان شاءاللہ اب ہم اسلامی خطوط پر امت مسلمہ کی فکری اور عملی تربیت کریں گے اور آنے والا وقت ہمارا ہے۔کشمیر بھی ہمارا ہے۔ ڈھاکہ و دہلی وغرناظہ بھی ہمارا ہو گا۔ ان شاءاللہ۔ اب وہ وقت تھوڑی ہی دور رہ گیا ہے۔ جب کشمیر فسطائیت کے ظلم سے نجات پائے گا تو امریکی ایجنٹ دہشت گرد تنظیموں کی گرفت میں نہیں، رسول اللہ کے غلاموں کی حفاظت میں ہو گا۔ مزید برآں میرے گھر میں کتاب موجود ہے جس سے میں حوالہ کے ساتھ شاہ فیصل کا وہ خواب ضرور نقل کرتا ہوں۔ ان شاءاللہ جس میں بقول مصنف کتاب بحوالہ نوائے وقت اخبار حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ وسلم نے (خواب میں) شاہ فیصل کو حکم دیا تھا کہ حوالہ

    شاہ فیصل کا خواب

    1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران شاہ فیصل مضطرب رہتے تھے اور راتوں کو جاگتے رہتے تھے۔ انہی دنوں ایک رات خواب میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ فیصل کو حکم دیا کہ:
    "پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے اور اسے نا قابل تسخیر بنانے میں مدد کرو۔ وہاں دین اسلام کی فوج میں ترویج اسلام کی سعی کرو"
    شاہ فیصل گھبرا کر اٹھے، صبح اپنے بھائیوں اور معتمد شخصیات کو بلوا کر انہیں خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت اور حکم سنایا، چنانچہ پاکستان کی مالی مدد کے علاوہ شاہ فیصل مسجد اسی خواب کی تعبیر ہے۔
    " نوائے وقت میگزین، اشاعت 15 فروری 2004 ء بحوالہ کتاب، انسان قیامت کی دہلیز پر"
    اس معلومات کو مذکورہ کتاب کے مصنف نے رقم کیا۔ کتاب میرے پاس موجود ہے۔ واللہ اعلم

    "وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین" کے مصداق اگر ہم آج اپنی نیتیں صاف کر لیں تو اللہ عزوجل ہم پر عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا کوئی ایک غلام حکم بنا دے گا۔ اور قرون اولیٰ کی یاد تازہ ہو جائے گی۔ پھر ہم کہیں گے۔
    ان شاءاللہ "ہر ملک ملک ما است"

    ReplyDelete
  7. قادری صاحب پہلے تو یہ عرض کرتا چلوں کہ میں بھی قادری اویسی رضوی ہوں۔

    اور باقی رہا آپ کی باتوں کا جواب۔۔۔

    خوش رہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :)

    ReplyDelete
    Replies
    1. اب میں کیا کَہ سکتا ہوں

      Delete
  8. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  9. میری سمجھ میں یہ آیا ہے کہ آپ کو بنیادی الجھن یہ ہے کہ ہم پاکستان کو دنیا کا بہترین ملک کیوں کہتے ہیں۔
    دیکھیے انسان کو اپنے گھر کے درودیوار سے بھی انسیت ہو جاتی ہے، پھر ملک تو ایک زیادہ جامع شے ہے۔ البتہ اس محبت کو غیرفطری حدود تک لے جانا بالکل غلط ہے۔ جہاں تک اپنے آپ کو نسلی طور پر برگزیدہ سمجھنے کی بات ہے، تو یہ مرض تو یہودیوں کو بھی تھا۔
    مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب آپ اپنے آپ اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو قوم، نسل، رنگ یا زبان کی بنیاد پر کسی دوسرے گروہ سے برتر قرار دے کر اس پر چڑھ دوڑیں۔
    جو الفاظ آپ نے ہمارے ملک کو دیار نبی سے ملانے والے افراد کی شان میں کہے ہیں، ان سے میں کلی طور پر متفق ہوں۔ حد ہوتی ہے۔
    جہاں تک مذہب کا تعلق ہے، تو پہلے یہاں دین کے بنیادی اصول تو نافذ کر لیے جائیں، جیسے انصاف، دیانت داری اور محنت، پھر غیرمسلم عسکری سربراہان کے بارے میں بحث کرنے کو اک عمر پڑی ہے۔
    اگر ہمارا جھنڈا کسی اور رنگ اور ڈیزائن کا ہوتا تو بھی ہمیں اس سے اتنی ہی محبت ہوتی،اگر ہمارا ترانہ سنسکرت سے متاثر ہوتا بجائے فارسی کے تو بھی ہمیں اتنا ہی اچھا لگتا۔
    البتہ یہاں ایک ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے، جب اس ملک کے ترانے کو رائج ہوئے اچھا خاصا عرصہ ہو چکا ہے تو اب ایک اور ترانہ اچھالنا محض بحث برائے بحث ہے جس سے ہمارے میڈیا کی روزی روٹی چل رہی ہے۔
    ٹھیک ہے کہ ہم اس وقت کڑے حالات سے گزر رہے ہیں، مگر بہت سی قوموں کی زندگی میں معاشی اور اخلاقی بحران آئے ہیں اور وہ ان سے نکل بھی آئی ہیں۔شاید ہم بھی نکل آئیں کبھی نہ کبھی، اگر ہم کوشش کریں تو۔
    اللہ تعالی نے ایک بنیادی اصول بیان فرمایا ہے کہ ہر انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی۔ اگر ہم یہ سمجھیں کہ صرف پاکستانی ہونے کے باعث ہم بہترین ہیں یا بہترین ہو سکتے ہیں ، ہاتھ پیر ہلائے بغیر تو یہ نری خام خیالی ہے۔
    قوموں کے عروج و زوال کے اصول بھی اتنے ہی اٹل ہیں جتنے اس کائنات کے طبعی قوانین۔
    یہ بھی دھیان میں رہے کہ زیادہ تر امکانات یہی ہیں کہ آپ، فرد واحد ہونے کے ناطے چاہتے ہوئے بھی پورے نظام کو درست نہیں کر سکتے، تو بات صرف اتنی ہے کہ جو کچھ آپ کے اختیار میں ہو وہ تو کر لیں۔
    ایک مشاہدہ یہ ہے کہ اگر مجھے کسی دکاندار نے کوئی شے زیادہ قیمت پر بیچ دی یا گھٹیا مال دے دیا تو پتہ چلنے پر میرا ردعمل کچھ ایسا ہو گا ' یہ دیکھو، یہ حال ہے پاکستان کا، ایک سے ایک چور ہے یہاں' تو یہاں پر ' چور بازاری' کو 'پاکستانیت' سے جوڑنے کی کوئ منطق موجود نہیں۔ بے ایمانی کا عنصر تو تقریبا ہر انسان کی سرشت میں موجود ہے، اس سے اس کی قومیت کا بھلا کیا تعلق؟
    زیادہ سنگین مسائل لاعلمی اور عدم برداشت ہیں، جب یہ ختم ہو گے تو ہم بجائے یہ غور کرنے کہ ہمارا ہمسایہ نماز میں ہاتھ باندھتا ہے یا نہیں، اپنا کام کرنا شروع کر دیں گے۔
    آپ نے کچھ سوالات اٹھائے، تو بات یہ ہے کہ غوروفکر تو وہاں ہوتا ہے جہاں انسان ہوں، اگر پری پروگرامڈ روبوٹس کا غول ہو تو وہ تو سوال کر ہی نہیں سکتے۔ جہاں تک غدار قرار پانے کا تعلق ہے، تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ ہمارے ہاں پہلے سے رائج خیالات
    پر سوچ بچار کرنے کی عادت ذرا نئی ہے، شاید اس لیے کچھ لوگوں کو برا محسوس ہوتا ہے۔
    شاید یہ تبصرہ آپ کی پوسٹ سے بھی زیادہ غیرمتعلقہ ہو گیا ہے، بے ربط تو بہرحال ہے۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. پہلا تبصرہ ہے جسے پڑھ کر خوشی ہوئی ہے۔ اور میرا خیال ہے آپ کے اور میرے خیالات ملتے جلتے ہی ہیں۔

      نسلی طور پر خود کر برگزیدہ سمجھنے کی بیماری واقعی بڑی پرانی ہے میں جانتا ہوں۔

      اور مذہب کی بات- تو یہی تو میرا بھی کہنا ہے کہ پہلے اس ملک کو اسلامی بنا تو لیا جائے پھر کہا جائے کہ یہ اسلامی مملکت ہے۔۔۔ ورنہ پھر مجھے اس بات کا جواب دیا جائے کہ ایک اسلامی مملکت کے سپہ سالاران غیر مسلم انگریز کیوں تھے؟ اور اگر وہ تھے تو پاکستان اسلامی ملک نہیں رہا کبھی بھی۔۔۔کیوں کہ اساس میں ہی غلطی تھی۔ اور افسوس اس بات کا ہے کہ لوگوں کو یہ بات معلوم ہی نہیں ہوتی۔ نہ ہی مطالعہ پاکستان کی کتب میں یہ کہیں لکھا پایا میں نے۔

      میں ظاہر ہے اپنے طور پر اکیلا تو سب کچھ بدل نہیں سکتا اور نہ ہی مجھے مجدد ہونے کا دعویٰ ہے۔ مگر الگ سوچ رکھنا اور اس کا مرچار رکھنا میرا حق ہے جو کہ اس خود ساختہ مقدس آئین نے مجھے دیا ہے۔

      اور بھیا آپ اپنا نام پتا لکھ دیتے تو آپ سے بات کرنے میں آسانی ہوجاتی :)

      Delete
    2. اسلام علیکم،

      بہت اچھا کہا آپ نے بھائی۔

      Delete
  10. آپ کا سوال یہ ہے ' ایک اسلامی مملکت کے سپہ سالاران غیر مسلم انگریز کیوں تھے؟ اور اگر وہ تھے تو پاکستان اسلامی ملک نہیں رہا کبھی بھی۔۔۔کیوں کہ اساس میں ہی غلطی تھی'۔
    اس ضمن میں میری رائے یہ ہے کہ اگرچہ آپ کا اٹھایا ہوا نکتہ غورطلب ہے ، مگر یہ کوئی اتنا بنیادی سوال نہیں کہ آپ اس کی بنیاد پر کہیں کہ پاکستان تو ایک اسلامی مملکت کبھی تھا ہی نہیں۔ ٹھیک ہے کہ اس مسئلے پر بحث کی جا سکتی ہے اور ایک سے زیادہ آراء سامنے آ سکتی ہیں۔ فساد تب برپا ہوتا ہے جب کوئی یہ کہے کہ ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلم اقلیتوں کو زندہ رہنے اور اپنے مذہب پر کاربند رہنے کا حق حاصل نہیں، کیونکہ اس قدر متشدد سوچ کسی گروہ کی تو ہو سکتی ہے، اسلام سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں۔ اسلام یہ سبق دیتا ہے کہ غیر مسلمین کی برگزیدہ ہستیوں کو برا بھلا کہنے سے پرہیز کیا جائے۔
    پھر یہ بھی پیش نظر رکھا جائے کہ پاکستان کو بنانے والے ہمارے اکابر لاکھ قابل احترام سہی، مگر وہ بہرحال کوئی مذہبی علما نہیں تھے۔
    اپنی سی کوشش کرنے کی بات جو میں نے کہی، تو مقصد بین السطور (میرے فہم کے مطابق) موجود کسی مجدد ثالث ہونے کے دعوے کی تکذیب کرنا نہیں تھا، میرا مطلب یہ تھا کہ مایوسی ایک نہایت بے کار چیز ہے۔
    استعمار کا پپٹ کہلانے کا خوف آپ کو دامن گیر ہے، تو میرا خیال یہ ہے کہ بہرحال یہ دنیا ایک سٹیج ہے اور ہم سب پتلیاں ہیں، کسی نہ کسی سطح پر۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. مجھے اگر کوئی خوب دامنگیر ہوتا تو یہ لکھتا ہی نہیں :)۔۔۔۔

      Delete
    2. (: پھر اسی انداز میں لکھتے رہیے

      Delete
  11. میں تحریر و پند و نصیحت کے میدان کا بندہ نہیں ہوں، یہ تو بس کبھی کبھی رگِ شرارت پھڑک اٹھتی ہے ۔۔۔
    جہاں تک رہی وہ خوف والی بات تو کچھ باتیں میں نے اس تحریر میں زبردستی "بھرتی" کی ہیں۔۔۔ "تک بندی" کی طرح ۔۔۔۔ :)۔۔

    ReplyDelete
  12. اے ریڈر اور قریشی صاحب !
    پھر میری بات کو اعتراض برئے اعتراض کہا جائے گا۔
    اس لیے منہ میں آئی بات لکھنے سے گریزاں ہوں۔
    آپ دونوں کے خیالات میں نے دیکھ لیے۔
    مزید بھی لکھ دیجے گا۔
    ان کی تسلی و تشفی میرے ذمے۔
    بشرطِ زندگی۔ بفضلِ خدا

    ReplyDelete
  13. یہاں تو خوب گرمی گذری ہے۔

    اب امین قریشی بھائی نے سچ ہی تو کہا ہے۔

    سن 2012 میں حج کے موقع پر جب حرم میں ایک پاکستانی اور ایک ہندوستانی مسلمان کی ملاقات ہوئی ،تو گپ شپ کے بعد جب اختتام پر دعاء ہونے لگی، تو پاکستانی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ پاکستان اور ہندوستان کو ایک کردئے تاکہ اسلامی حکومت قائم ہوسکے،

    تو ہندوستانی نے کہا کہ کبھی نہیں ،کبھی نہیں

    ہم پاکستان سے الحاق نہیں چاہتے ،ورنہ تو یہاں بھی بم پھٹیں گے۔

    بھئی ہر بندے کو اپنا علاقہ پسند ہے۔

    ReplyDelete
  14. وطن سے محبت انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے جب مکہ چھوڑا تو آپ کو بھی اسے چھوڑنے کا غم تھا آپﷺ نے فرمایا تھا ' اے مکہ مجھے تجھ سے محبت ہے مگر تیرے بیٹے مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔
    حب الوطنی کوئی بری چیز نہیں۔ لیکن اس میں حد سے تجاوز کر جانا یقینا غلط ہے۔ رسول اللہ کے ہی الفاظ ہیں کہ کسی عربی کو کسی عجمی یا کسی عجمی کو کسی عربی پر فوقیت نہیں۔ سوائے تقویٰ کے۔ سو نسلی اور علاقائی تفاخر کوئی شے نہیں۔برتری کا معیار تقویٰ ہے۔
    مجھے بحث مباحث کا سلیقہ نہیں۔ لہٰذا اختصار سے کام لیا ہے۔ باقی نتیجہ نکالنا آپ کا کام ہے کہ مراسلے میں بات کیا کہنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    ReplyDelete
  15. افسوس کہ بغیر تحقیق کے بے راہروی کا شکار نام نہاد خود ساختہ محقیقین خود تو بھٹکے ہوئے ہیں ہی، ناپختہ زہنوں کو بھی اپنے زہریلے خیالات سے مسموم کرنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔

    محترم، قومی ترانے کے بارے میں ڈاکٹر صفدر محمود کے کالم دیکھیے اور بحرِ خدا اپنے زہن کا خناس اپنے زہن میں ہی رکھئے۔ جہاں تک ہندوستانی مسلمانوں کی بات ہے، ابھی پچھلے سال ہی کے حج سے بہت سے واقعات میری آنکھیں کھولنے کو کافی تھے۔

    وطنِ عزیز کو جو بھی مسائل درپیش ہیں، ان میں آپ جیسے خود ساختہ محقیقین کا بھی بہت حصہ ہے۔ بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں لیکن جانتا ہوں کہ پتھروں سے سر پھوڑنے کا کچھ فائدہ نہیں، والسلام۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. جنابِ والا " مجھے تو حفیظ کے قومی ترانے سے زیادہ "ہندو" جگن ناتھ آزاد کا لکھا ہوا:" اس جملے میں مجھے یہ بتا دیجیے کہ میں نے کہاں لکھا کہ جگن ناتھ کا قومی ترانہ۔۔۔۔۔؟؟؟ اس کا لکھا ہوا صرف ترانہ ہے، نظم ہے مگر بہت سلیس اور رواں ہے اور ہماری قومی زبان میں ہے۔۔۔

      خود ساختہ محققین، نا پختہ ذہن، زہریلے خیالات، ذہن کا خناس، پھتروں سے سر پھوڑنا، یہ باتیں آپ کے اندر کے خناس اور زہر کو ظاہر کرنے کو کافی ہیں جناب :)۔۔۔

      وطنِ عزیز کو مسائل ہماری وجہ سے نہیں ان کی وجہ سے درپیش ہیں جو آپ کی طرح ریت میں منہ ڈالے پڑے رہتے ہیں۔۔۔ بھائی برائیاں ہیں تو نشاندہی کرنے والے بھی ہوں گے،۔۔

      آپ کو جو بھی لکھنا ہے لکھیں، انشاء اللہ منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔۔۔

      Delete