Wednesday, October 7, 2015

عظیم اخلاق کی یاد میں۔۔



کسی حادثے کی خبر ہوئی، تو فضا کی سانس اکھڑ گئی
کوئی اتفاق سے بچ گیا، تو خیال تیری طرف گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیاقت علی عاصم



پیر کی صبح میں لیب میں تھا کہ کچھ طلباء نے خبر دی 'عظیم اخلاق' بائک پر جامعہ آتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا اور شدید زخمی حالت میں آئی سی یو میں ہے۔ مجھے یہ سن کر فطری طور پر ذہنی دھچکا لگا، جو کہ یقینا ہر ذی روح کو حادثے کی خبر سن کر لگتا ہے۔ بتانے والوں کے مطابق اس کے دماغ پر چوٹ آئی اور اندرونی بلیڈنگ کی وجہ سے دماغ کی سرجری بھی ہوئی مگر ڈاکٹر مایوس ہیں۔

دو دن تین مختلف ہسپتالوں میں رہا اور منگل بدھ کی درمیانی رات کو اس کے انتقال کی خبر نے دل کو گویا بھینچ کر رکھ دیا۔

حادثہ ہونا نئی بات نہیں، نہ ہی موت نئی بات ہے۔ جوان موت بھی کوئی نئی بات نہیں لیکن معمول سے ہٹ کر ہے اس لیے زیادہ دکھ کا باعث ہوتی ہے۔ دنیا کی پہلی موت بھی ایک افسوس ناک ترین موت تھی اور یہ حالیہ حادثہ بھی کم افسوس ناک نہیں۔ روز کراچی شہر میں بائکوں پر حادثے ہوتے رہتے ہیں، میں خود بھی 100 میں سے 99 سفر بائک پر ہی کرتا ہوں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں، جن میں ٹریفک کے دباؤ میں بائک کا جلد منزل پر پہنچ جانا ایک اہم وجہ ہے۔

عظیم اخلاق ایک بہت شریف النفس اور حقیقی معنیٰ میں عظیم اخلاق کا حامل طالبِ علم تھا۔ نیک سیرت بھی تھا اور ایک مبہم سی معصوم مسکراہٹ ہر وقت اس کے چہرے پر خوبصورت داڑھی کے ساتھ سجی رہتی تھی۔

اس دن وہ بائک پر کسی ساتھی طالبِ علم کے ساتھ پیچھے بیٹھا جامعہ کی طرف رواں دواں تھا کہ جامعہ سے چند فرلانگ پہلے ہی حادثہ رونما ہوا اور وہ اپنے رشتے داروں، ساتھیوں اور اساتذہ کو روتا اور دکھی چھوڑ گیا۔ 

کسی حادثے میں، خاص کر بائک کے حادثے میں، اگر دماغ متاثر ہو تو بچنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ اور اس کو تو مناسب طبی امداد ملنے میں بھی کئی گھنٹے لگ گئے، اس لیے اس کی صحت کی دعاؤں کے باوجود امیدوں کے چراغ ٹمٹماتے ہی رہے اور دو دن زندگی و موت کی کشمکش میں اللہ نے اس کی مشکل آسان کردی۔ سنا ہے حادثے میں مرنے والے بھی شہید ہوتے ہیں، اللہ اعلم، اللہ اس کی مغفرت کرے، درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر عطا کرے۔


کچھ عرصہ قبل پولیس نے کراچی میں بائک پر ہیلمٹ پہننے کے قانون پر سختی سے عمل درآمد شروع کیا تھا اور بائک چلانے والے کے علاوہ پیچھے بیٹھنے والے کو بھی ہیلمٹ پہننا لازم قرار دیا تھا۔ اپنی تمام مشکلات کے باوجود یہ قانون عوام کی حفاظت کے لیے تھا۔ گو کہ اس قانون کے بعد لوگ یہی الزام لگاتے نظر آئے کہ پولیس نے رشوت کا بازار گرم کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا تھا مگر ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچا جائے تو شنید یہی ہے بائک کے حادثات میں اکثر میں دماغ متاثر ہونے کا قوی امکان ہوتا ہے جس کا نتیجہ اکثر اوقات موت کی صورت میں نکلتا ہے۔

تمام باتوں اور مباحث سے قطعِ نظر، بائک چلاتے ہوئے ہیلمٹ پہننا واقعی حفاظتی نقطۂ نگاہ سے اہم ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان میں دستیاب اکثر ہیلمٹ حفاظت کے لیے ناکافی اور غیر معیاری ہوتے ہیں مگر کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہوتا ہے۔

پہلے میں بھی نادانی میں ہیلمٹ کا مذاق اڑاتا تھا مگر آہستہ آہستہ حادثات دیکھ کر اور سن کر احساس ہوا کہ یہ بہت ضروری ہے۔ حادثات دیکھ کر اور تفصیلات سن کر دل دہل سا جاتا ہے۔ کسی کو تکلیف میں دیکھ کر رواں رواں کانپ اٹھتا ہے۔

ہیلمٹ پہننے کے پہلے جو بات اہم ترین ہے وہ یہ کہ بائک چلانے میں بے احتیاطی، لا پروائی، بے سوچے سمجھے تیز رفتاری غلط چیز ہے۔ اس سے اجتناب ضروری ہے۔ میں تو اکثر خالی سڑک پر بھی تیز رفتاری سے خوف کھاتا ہوں کیوں کہ دوسرے لوگ احمق ہوتے ہیں، اگر آپ ذرا سے چوکے تو وہ احمق آپ کو کچل کر رکھ دیتے ہیں۔ کئی حادثات سے میں بھی بچا ہوں، اللہ کا کرم ہے۔ جان تو آنی جانی ہے مگر جواں مرگ اپنے پیچھے سیکڑوں کو غم دے جاتے ہیں۔ 

میری تمام بائک چلانے والوں سے گزارش ہے کہ ہیلمٹ تو پہننا لازمی ہے ہی، اس سے پہلے اپنے بائک چلانے کے انداز پر غور کریں۔ جو لوگ دوسری سواریاں چلاتے ہیں، وہ بھی اس طرح ڈرائیو نہ کریں کہ کسی کا جوان چشم و چراغ مستقل کے سارے خوابوں کو اپنی آنکھوں میں ہی لیے قبر کی آغوش میں جا سوئے۔ آپ کی ذرا سی غلطی کسی کو عمر بھر کے غم اور پچھتاووں میں مبتلا کر سکتی ہے۔

میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں کہ جن کو انہی حادثات کی وجہ سے گھر والے بائک نہیں چلانے دیتے، چاہے ان کو بسوں اور چنگچی میں کتنے ہی دھکے کیوں نہ کھانے پڑیں۔ صرف اس لیے کہ ہمارے شہر میں بائک کو خطرناک سواری بنا دیا ہے؛ بائک چلانے والوں نے اور دوسری سواریوں کے ڈرائیوروں نے۔ کیوں کہ اکثر سننے میں آتا ہے کہ بندہ خود تو ٹھیک بائک چلا رہا تھا، مگر کسی اور کی تیز رفتاری اور بے احتیاطی نے اس کی جان لے لی۔

دل بہت بوجھل ہے۔ عظیم اخلاق نے کئی بار میرے ساتھ بھی بائک پر سفر کیا ہے۔ میں اس کو پڑھا بھی چکا ہوں۔ دل بہت اداس ہے اور بے یقینی میں مبتلا ہے۔ میں ایک معمولی سا استاد ہوں مگر اپنے جوان شاگرد کو کاندھا دینے کا پہلا موقع تھا، اللہ کرے کہ آخری ہی ہو۔ یوں تھا جیسے کوئی اپنا سگا رشتے دار جا رہا ہو۔ اس کے تمام سنگی ساتھی، کچھ اساتذہ، کچھ جامعہ کے لوگ موجود تھے، سب کے چہروں سے واضح تھا کہ ان کو عظیم کی موت کا یقین نہیں آرہا۔

 کاش وہ اس دن بائک پر نہ آتا، یا کاش وہ ہیلمٹ پہنا ہوتا۔ کل رات ایس ایم ایس پر اس کے انتقال کی خبر پڑھی تو دماغ سن ہوگیا۔ اس کے جنازے کے لیے جاتے ہوئے ایک عجیب سی الجھن اور بے چینی طاری تھی۔ اس کے جنازے کو کندھا دیتے ہوئے، نمازِ جنازہ کے دوران اور پھر قبرستان میں تدفین کے وقت کئی دفعہ رونا آیا، آنسو نکلنے کو بیتاب تھے۔ میں نے اس کا آخری دیدار نہیں کیا، کیوں کہ اس کا معصوم مسکراتا چہرہ پہلے ہی میری نگاہوں میں دو دن سے گھوم رہا تھا۔

کوئی دعا رنگ نہ لائی، اسی میں بہتری ہوگی۔ خالق نے اس کے لیے اچھا اجر اور اچھی تدبیر رکھی ہوگی۔ بے شک خالقِ کل کی تدبیر لاجواب اور حرفِ آخر ہوتی ہے۔ سب سے بہتر تدبیر کرنے والے کی مرضی، اس نے اپنے بندے کو زندگی کی تکلیفوں میں مقابلے میں یقینا موت کی راحت عطا کی ہوگی۔


7 comments :

  1. Masood Ahmed RafayOctober 8, 2015 at 6:35 PM

    Well Written Sir G. Allah ta'Allah usay jannat-ul-firdous main jaga ata farmae. Ameen

    ReplyDelete
  2. may Allah bless his soul, forgive him and grant him higher ranks in Jannat ul Firdous.... Ameen !!!

    ReplyDelete
  3. May his soul Rest in Peace... Ameen!!

    ReplyDelete
  4. May Allah give him the highest place in Jannah. Ameen!

    ReplyDelete
  5. Well Written Sir Allah usay jannat-ul-firdous main jaga ata farmaye
    Ameen

    ReplyDelete
  6. اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرمائے آمین

    ReplyDelete
  7. Kanoon logon ki bhalai k lie hi banae jate hn lakin pakistani police ki repotation hi itni gatya hogai he k abb bhale pakistani police gangha naha k ajay, ya saat hajj kr le log usse hamesha galat hi samjin ge, khar jaan or sehat Allah ki nemat he or usski hifazat krna hm pe farz he, is lie helmat ka istamal zroor bil zaroor lazim he. Allah Azeem ko Azeem muqam e Jannat ata frmay Ameen
    Aik sitara tha kuch dar thera yahan
    apni manzil ko akhir rawana hua

    ReplyDelete