Friday, November 18, 2011

غزل: نالہ و شور و فغاں کیا کیجے



بحرِ رمل میں میری ایک غزل۔ کافی اغلاط ہیں اس میں کوئی صاحب اصلاح فرمانا چاہیں تو ممنون ہونگا۔


نالہ و شور و فغاں کیا کیجے،
دل نہیں لگتا یہاں، کیا کیجے،


دل تو اظہارِ تمنّا چاہے،
وہ نہیں سنتے، بیاں کیا کیجے،


شوخیٔ گل کا خدا حافظ ہو،
بلبلیں گریہ کناں،کیا کیجے،


جام سب خالی پڑے ہیں دل کے،
چل دیا پیرِ مغاں، کیا کیجے،


کب ملے ہیں حسینوں کے خطوط؟
چند تصویرِ بُتاں کیا کیجے،


چھوڑ کر بیٹھ گیا جو ہم کو،
اس کے بن جائیں کہاں، کیا کیجے،


شب سی تاریکی سرِ شام ہے کیوں,
دل مرا ڈوب گیا، کیا کیجے


محمد امین قریشی۔


ابھی مکمل اصلاح نہیں ہوپائی ہے اس غزل کی۔
مگر کافی حد تک اصلاح کے لیے ممنون ہوں:

اعجاز عبید انکل

0 comments:

Post a Comment